قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 124
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) خدا نے نصاریٰ سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ یہ عہد (میثاق) لیا تھا کہ خدائے واحد پر ایمان لاؤ اور اُس کی ہی عبادت کرو مگر انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا۔جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے: لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (سورة المائدہ سورۃ نمبر 5 آیت نمبر 73) ترجمہ: یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔م (سورة لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةٍ المائدہ سورۃ نمبر 5 آیت نمبر 74) ترجمہ: یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے (بھی) جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔اس عہد کو توڑنے سے دو نتیجے برآمد ہوئے : ( 1 ) بنی اسرائیل ( یہود ) جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے مطابق خدائے واحد پر ایمان رکھتے تھے اور اُسی کی عبادت کرتے ہیں اس مذہبی عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے نصاریٰ کے مخالف ہو گئے۔اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ نصاری کے فرقوں کے درمیان بھی باہم شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔قرآن مجید کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ 124