قندیلیں

by Other Authors

Page 91 of 194

قندیلیں — Page 91

۹۱ کو لاش سے میٹ کر اوٹ میں آنے کے لئے کہا۔تھوڑی دیر بعد واقعی بہت سے آمی اور سوار آگئے۔جو کچھ دیر بعد پلٹ گئے۔تب یہ سب دوبارہ حضرت شہید کی لاش پر آگئے اور اسے تابوت میں رکھ دیا۔اس وقت لاش اس قدر بھاری تھی کہ اٹھائی نہیں جا سکتی تھی سید احمد نور صاحب کا بلی کا بیان ہے کہ میں نے اس وقت لاش کو مخاطب کر کے کہا کہ جناب یہ بھاری ہونے کا وقت نہیں ہم تو ابھی مصیبت میں گرفتار ہیں کوئی اور اٹھانے والا نہیں۔آپ بلکے ہو جائیں۔اس پر جب ہم نے ہاتھ لگایا تو لاش اتنی ہلکی ہوگئی تھی کہ میں نے کہا میں اکیلا ہی اٹھالیتا ہوں لیکن حوالدار نے کہا کہ نہیں میں اٹھاؤں گا۔آخر وہ میری پگڑی لے کر اور تابوت کو اس کے ذریعہ سے اٹھا کر نزدیک کے ایک مقبرہ میں پہنچا کر رخصت ہوئے ر شہید مرحوم کے چشم دید واقعات صفحہ ۱۶) در بارانی میں حاضری زیادہ ضروری ہے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بیان فرمایا کہ ایک دقعہ مجھے ملکہ میری نے ونڈسر کے محل میں ذاتی جہان کی حیثیت سے مدعو کیا۔ہمیں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔مجھے بتایا گیا کہ ملکہ جب ملاقات کے لئے بلائیں تو جب تک ملکہ خود ملاقات کو ختم نہ کریں آپ ان کی موجودگی میں اشارہ بھی ملاقات کے اختتام کی کوشش نہیں کر سکتے وغیرہ۔میں جب ملاقات کے لئے ملکہ کے پاس حاضر ہوا تو ملاقات آتنی لمبی ہوگئی کہ مجھے ڈر ہوا کہ نماز عصر ضائع نہ ہو جائے۔چنانچہ میرے چہرے پر فکر کے آثار نے ودار ہو گئے میںکہ جو بے حد زیرک تھیں فوراً سمجھ گئیں کہ میری طبیعت پر بوجھ ہے۔انہوں نے دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ میری نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ملکہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئیں اور