قندیلیں

by Other Authors

Page 85 of 194

قندیلیں — Page 85

۸۵ کپڑا تھا اور نہ پھول وغیرہ بلکہ لاہور کی بعض خواتین اپنے ساتھ کچھ پھول لائی تھیں۔جس سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے منع فرما دیا اور حقیقت خدا کے حضور حاضر ہونے کے وقت سادگی اور صفائی ہی سجتی ہے۔و تابعین اصحاب احمد جلد سوم - سيرة ام طاہر صفحه (۱۱) جنت سے انگور کا خوشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا میں دکھایا گیا کہ ایک فرشتہ انگوروں کا ایک خوشہ آپ کے پاس لایا ہے۔آپ نے خواب میں ہی دریافت فرمایا کہ یہ خوشہ کس کے لئے لائے ہو ؟ فرشتہ نے جواب دیا کہ یہ خوشہ ابو جہل کے لئے لایا ہوں۔آپ گھبرا گئے اور اسی گھبرا بہٹ میں آپ کی آنکھ کھل گئی۔کیا خدا کا رسول اور اس کا دشمن ایک ہی صف میں کھڑتے ہیں کہ اس کے لئے بھی جنت سے خوشہ آرہا ہے۔حضرت عکرمہ کے مسلمان ہونے پر حضور نے فرمایا کہ اب میری خواب کی تعبیر مجھ پر نکل گئی ہے۔پھر کر نہ اسلام میں اتنی ترقی کر گئے کہ جب بعد میں عیسائیوں کے ساتھ جنگیں ہوئیں تو ایک موقعہ پر صحابہ نے فیصلہ کیا کہ یکدم دشمن کے قلب پر حملہ کیا جائے تاکہ وہ آئندہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکیں۔جو لوگ اس غرض کے لئے چنے گئے تھے ان میں حضرت عکرمہ بھی تھے۔تاریخ میں آتا ہے کہ جس طرح عقاب چڑیا پر جھپٹا مارتا ہے اسی طرح یہ لوگ دشمن پر حملہ کر کے قلب نشکر یک تشکریک پہنچ گئے۔یہ لوگ ساٹھ تھے اور دشمن کا لشکر ساٹھ ہزار کی تعداد میں تھا اور کمانڈر انچیف سے روم کے بادشاہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم نے مسلمانوں پر فتح پالی تو میں آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا اور اپنی بیٹی کی شادی تم سے کر دوں گا۔مگر یہ ساتھ