قندیلیں

by Other Authors

Page 86 of 194

قندیلیں — Page 86

14 آدمی صفوں کو چیرتے ہوئے قلب لشکر میں پہنچے گئے اور جرنیل کو قتل کر دیا اور عیسائی فوج مرعوب ہو کر بھاگ گئی مگر یہ مجاہد ساٹھ ہزار دشمنوں کی ہزاروں تلواروں میں سے گزرے تھے اس لئے زخمی ہو گئے تھے۔جب جنگ کے بعد مسلمانوں نے ان لوگوں کی خبر لی تو انہوں نے ان میں سے چند زخمیوں کو میدان میں پڑے پایا۔وہ گرم ملک تھا۔وقت بھی گرمی کا۔ہزاروں آدمیوں میں سے راستہ بنانے اور تلواریں مارتے چلے جانے کی وجہ سے پسینہ کثرت سے نکلا جس کی وجہ سے ان کو بڑی شدت سے پیاس لگی ہوئی تھی۔زبانیں ان کی باہر نکلی ہوئی تھیں اور وہ پانی کے لئے تڑپ رہے تھے۔ایک مسلمان صحابی نے عکرمہ کو پہچان لیا اور پانی کی چھا گل لے کر ان کے پاس گیا اور کہا آپ کو پیاس لگی ہوتی ہے پانی پی لیں۔عکرمہ نے دوسری طرف نگاہ ڈالی تو ایک اور مسلمان بھی پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔انہوں نے پانی کا کوئی قطرہ پئے بغیر اس سپاہی سے کہا وہ دیکھو ایک پرانا مسلمان پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا ہے وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔تم اس کے پاس جاؤ۔اور اسے پانی پلاؤ۔چنانچہ وہ اگلے مسلمان کے پاس گیا لیکن اس نے بھی انکار کر دیا بغرض وہ سلمان ان میں سے ہر ایک کے پاس گیا۔جب وہ آخری زخمی مسلمان کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔پھر وہ عکر ینہ کی طرف لوٹا تو ان کی بھی جان نکل چکی تھی۔جو ر و یا خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا کہ فرشتہ انگور کا خوشہ لایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت فرمانے پر کہ کس کے لئے ہے اور فرشتے نے جواب دیا کہ ابو جیل کے لئے۔وہ کمال درجہ پر اس رنگ میں پورا ہوا کہ حضرت عکرمہ مسلمان ہو گئے اور اعلی درجہ کا اختیار کر کے شہادت کا رتبہ پایا۔اس ردیا کے یہی معنی تھے کہ انگور کے اندر چونکہ پانی ہوتا ہے اس لئے وہ پانی کی پیاس میں