قندیلیں — Page 68
۶۸ رہے تھے۔آپ نے مجھے طمانچہ مارتے ہوئے دیکھ لیا سید ھے میرے پاس آئے۔مجھے پاس کھڑا کر کے اس لڑکی کو اپنے پاس بلایا اور کہا۔مبارک نے تمہارے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔تم اس کے منہ پر اسی طرح طمانچہ مارو۔وہ لڑکی اس کی جرات نہ کر سکی۔بار بار کہنے کے باوجود اس نے میرے منہ پر طمانچہ نہیں مارا۔اس کے بعد مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔تم کیا سمجھتے ہو کہ اس کا باپ نہیں اس لئے تم جو چا ہو کر سکتے ہو۔یاد رکھو کہ میں اس کا باپ ہوں۔اگر تم نے آئندہ ایسی حرکت کی تو میں سزا دوں گا یہ ایک یتیم لڑکی تھی جس کو ابا جان نے اپنی کفالت میں لیا ہوا تھا۔نے ا الفضل صفحه ۴۰۴ ۵ جنوری (۱۹۹۵) تسابق کی روح حضرت امام الثانی فرماتے ہیں کہ جب تک تسابق کی روح کسی قوم میں قائیم رہے گی۔اس وقت تک خواہ وہ کتنی بھی ذلت میں پہنچی ہوئی ہو اور کتنی بھی گرمی ہوئی ہو پھر بھی اپنی چمک دکھلاتی چلی جاتی ہے۔ہمارے قریب کے بزرگوں میں ایسے زمانہ میں جب مسلمانوں پر ایک تنزل کی حالت آگئی تھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ تسابق کی وجہ سے ان لوگوں کے واقعات سن کر انسان کے دل میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے حضرت سید اسمعیل صاحب شہید جو تیرھویں صدی میں گزرے ہیں مرید تھے۔اور سید احمد صاحب بریلوی سکھوں سے جہاد کرنے کے لئے پشاور کی طرف گئے ہوئے تھے۔سید اسمعیل صاحب کسی کام کے لئے دہلی آئے ہوئے تھے۔جب دہلی سے واپس جاتے ہوئے کیمبل پور کے مقام پر پہنچے تو کسی نے ان سے ذکر کیا کہ اس دریا کو تیر کو یہاں سے کوئی نہیں گزر