قندیلیں — Page 48
۴۸ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے اعمال کو اور نظر سے دیکھتا ہے اور دوسرے کے اعمال اور نظر سے۔( عرفان الہی صفحہ ۵۸) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن حضرت خلیفہ المسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک لڑکا جو میری پہلی بیوی سے تھا۔اور اس وقت تک میرا اکلوتا بیٹا تھا فوت ہو گیا۔اور فوت ایسے ہوا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ہی اسے قتل کیا۔یہ اس طرح ہوا کہ وہ بیمار تھا اور آپ اس کو دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے اور اس کے لئے دوائی کی ایک پڑ یا تجویز کی شاید اس کے گلے میں کوئی نقص تھا۔آپ نے دوا تجویز کر کے لڑکے کی والدہ سے کہا کہ یہ پڑیا اسے ابھی کھلا دی جائے۔آپ فرماتے تھے کہ اس بچے نے مجھے کہا۔آیا مجھے گھوڑا لے دو۔آپ باہر نکلے اور ایک ریمیں جو گھوڑوں کا اچھا واقف نقابات کرنے لگے کہ ہمیں ایسا گھوڑا چاہیئے۔اتنا فر یہ ہو اور اتنی قیمت ہو۔فرماتے تھے ابھی میں اس سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ تو کر دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا۔لڑکا فوت ہو گیا ہے میں جو گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ پڑیا جب اس کے منہ میں ڈالی گئی تو اسے انھو آ گیا۔اور ساتھ ہی اس کا دم نکل گیا۔آپ فرماتے ہیں مجھے اس کا اتنا صدمہ ہوا۔اتنا صدمہ ہوا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا تو میرے منہ سے الحمد للہ نہ نکلے اور بار بار میر دل میں یہی خیال آئے کہ کس طرح اچانک میرا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔اس پر یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ نورالدین تجھے یہی خیال ہے کہ تیرا یہ لڑکا تیری یاد ہوتا اور تیرا نام دنیا میں باقی رہتا۔لیکن اگر بڑے ہو کر یہ لڑکا چور بن جاتا تو پھر تیری کیا عزت