قندیلیں

by Other Authors

Page 49 of 194

قندیلیں — Page 49

۴۹ ہوتی۔یا بڑا ہو کر اگر یہ ظالم ہوتا۔بنی نوع کو دکھ پہنچاتا تو لوگ اسے صرف گالیاں دیتے۔ایسی حالت میں اٹھا لینا محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور تیرا فرض ہے کہ تو اس احسان کا شکر ادا کرے۔آپ فرماتے تھے کہ جب میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تو اس وقت بے اختیار میری زبان سے بڑے زور سے نکلا الحمد لله رب العالمین اور چونکہ میں نے بڑی بلند آواز اور چیخ کر کہا تھا الْحَمْدُ للهِ رب العالمین اس لئے مقتدی بھی حیران ہو گئے کہ یہ کیا ہوا چنانچہ بعد میں انہوں نے محمد سے پوچھا اور میں نے بتایا کہ آج خدا نے اس طرح میری راہنمائی فرمائی ہے ور نہ میرے دل کو سخت صدمہ پہنچا تھا۔ر خطبه جمعه - الفضل ۴۲-۴-۱۸ اطاعت امام اور خدا کی دستگیری حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے حضرت امام قول کو تارہ دلوائی کہ فوراً وتی پہنچ جائیں۔تار لکھنے والے نے تار میں (Immediate) یعنی بلا توقف کے الفاظ لکھ دئے حضرت امام اول کو جب یہ تار پیچی تو اس وقت آپ اپنے مطب میں تشریف فرما تھے۔تار ملتے ہی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ حضرت صاحب نے بلا توقف بلایا ہے۔میں جاتا ہوں اور گھر میں قدم تک رکھنے کے بغیر سید ھے اڈہ خانے کی طرف روانہ ہو گئے۔کیفیت یہ تھی کہ اس وقت نہ جیب میں خرچ تھا اور نہ ساتھ کوئی کبستر وغیرہ۔گھر والوں کو اطلاع ملی تو پیچھے سے ایک کمبل تو کسی کے ہاتھ بھجوا دیا مگر خرچ کا انہیں بھی خیال نہ آیا۔اور شاید اس وقت گھرمیں کوئی رقم ہوگی بھی کہ نہیں۔اڈہ خانہ پر پہنچ کر حضرت امام اول