قندیلیں

by Other Authors

Page 185 of 194

قندیلیں — Page 185

۱۸۵ ارشاد از حم ترحم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔دحیات قدسی حصہ چہارم صفحه ۳۸ - ۳۹) انکساری اور عظمت چوہدری عبد الحمید صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ آج سے تقریباً ۳۰ - ۳۵ سال قبل ڈاکٹر عبدالسلام فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدر پاکستان کے بطور سائنسی مشیر اعلیٰ کام کر رہے تھے۔وہ سال میں چار پانچ مرتبہ پاکستان تشریف لاتے تھے۔ایک مرتبہ وہ پاکستان تشریف لائے۔کراچی میں چند یوم قیام کرنے کے بعد ملتان وہ اپنی بڑی ہمشیرہ مسعود بیگم (وفات یافتہ سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے ملتان کے ہوائی اڈہ پر کمشنر ڈپٹی کمشنر ڈی آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ افسران انہیں خوش آمدید کہنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔ڈاکٹر عبد السلام جب ہوائی جہاز سے اترے تو ان افسران کے ہمراہ ہوائی اڈہ کے۔وی۔آئی پی روم کی طرف چل پڑے۔اتنے میں ان کی نظر ایک نہایت ہی چاق و چوبند پولیس کے حوالدار پر پڑی۔آپ اس کی طرف چل دیئے۔اس پولیس جو اندار سے بڑے ہی تپاک اور پیار سے گلے ملے اور اسے اپنے ہمراہ۔وی آئی پی روم لے گئے۔اور ان افسران سے جو خوش آمدید کہنے آئے ہوئے تھے اسے اس پولیس حوالدار کا تعارف کروایا۔ان اور انہیں بتایا کہ وہ پولیس حوالدار جن کا نام حسین تھا ان کے بچپن کا دوست اور کلاس فیلو تھا۔الفضل ۷ اکتوبر ۱۹۹۵ء) 1990