قندیلیں — Page 176
144 ذمہ داری کا احساس چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ " ہمارے ایک بھائی جن کا نام حمید اللہ تھا۔وہ آٹھ نو سال کی عمر میں چند دن بیمار رہ کر فوت ہو گئے۔ان کی دفات فجر کے وقت ہوئی۔والد صاحب تمام رات ان کی تیمار داری میں مصروف رہے تھے۔ان کی وفات کے بعد ان کی تجہیز و تکفین جنازہ اور دفن سے فارغ ہو کر عدالت کھلنے پر حسب دستور عدالت میں اپنے کام پر حاضر ہو گئے۔نہ موکلوں میں سے کسی کو احساس ہوا اور نہ ہی افسران عدالت یا آپ کے ہم پیشہ اصحاب میں سے کسی کو اطلاع ہوئی کہ آپ اپنے لخت جگر کو سپرد خاک کر کے اپنے مولا کی رضا پر راضی اور شاکر اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے حسب معمول کمر بستہ حاضر ہو گئے ہیں۔دن کے دوران میں آپ کے ایک ہم پیشہ دوست نے جو آپ کے دفتر کے کمرہ کے شریک بھی تھے۔سرسری طور پر دریافت کیا کہ حمید اللہ خان کا کیا حال ہے۔اب تو کوئی تکلیف نہیں۔اس پر انہوں نے بہت حیرت کا اظہار کیا اور شکایت کی کہ آپ نے اطلاع کیوں نہیں دی۔تا ہم لوگ تجہیز و تکفین میں ہاتھ بٹا سکیں اور جنازے میں شریک ہو سکتے۔اور پھر آج کچہری آنے کی کیا پابندی تھی۔آپ مجھے کہلا بھیجتے۔میں آپ کی جگہ تمام کام نپٹا دیتا۔آپ نے جواب میں ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اطلاع تو اس لئے نہیں دی کہ کام کا دن تھا۔آپ کو بے وقت پریشانی ہوتی۔کچھ دوست آگئے اور تمام کام سرانجام پا گیا اور کچہری اس لئے آگیا ہوں کہ اپنے کام کی فکر ہوگئی اور میری ذمہ داری میں میرے ذاتی صدمہ کی وجہ سے کوئی تخفیف نہیں ( اصحاب احمد جلد یا زه دیم ص۱۶۶) ہوئی۔144