قندیلیں

by Other Authors

Page 108 of 194

قندیلیں — Page 108

1۔A کے لئے تشریف لے گئے تھے مسلمان اپنے مذہب میں کتنا پابند ہوتا ہے ۱۹۳۱ الفضل ۳۱ جنوری ) اسی اخبار نے مزید لکھا کہ ہندو لیڈی جتنا بڑا ہوتا جائے گا اتنا زیادہ آزاد خیال سمتی کہ وہر یہ ہو جائے گا۔گول میز کا نفرنس کے موقعہ پر کوئی ہندو لیڈر وید اپنے ساتھ نہیں لے گیا لیکن ہر مسلم لیڈر قرآن مجید لے کر گیا۔اور ہر روزہ اس کا مطالعہ کرتا رہا۔اس سے بھی بڑھ کر ہندو لیڈر واپس آئے اور اپنی اپنی کو ٹیوں میں چلے گئے لیکن ان ہندو لیڈروں کے لئے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ایک شمع ہدایت دکھائی۔۔۔کہ قوت ایمان اور اپنے مذہب کی محبت ہی اونچا اور بلند کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب۔۔۔۔جہاز سے اترے اور ایک دن دہلی رہ کر وہاں سے سید ھے۔۔۔۔قادیان جاپہنچے۔چوہدری صاحب نے لنڈن سے واپسی پر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے " دار الامان بجا پہنچے اور وہاں بیت الذکر میں جاکر اپنا فرض ادا کیا۔اسے کہتے ہیں قوت ایمان۔۔۔۔۔۔مسلم لیڈروں میں سے کسی نے نہیں تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جو مثال پیدا کی ہے اسے دیکھ کر ہر ہندو لیڈر شرمندہ ہو رہا ہوگا۔) مورخہ ۲۶ بحوالہ الفضل ۳۱ ) ۳۳ تم نے بہت ظلم کیا ہے مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے کہ میں زمانے میں والد صاحب سلسلہ میں داخل ہوئے انہیں مثنوی مولانا روم سے بہت دلچسپی تھی۔اور فرصت کے وقت ایک صاحب کے ساتھ مثنوی پڑھا کرتے