قندیلیں

by Other Authors

Page 107 of 194

قندیلیں — Page 107

میرا بھی فارغ ہی ہوئی تھیں کہ عبد اللہ خان اور اسد اللہ خان لاہور تر میں پہنچ گئے۔انہوں نے دریافت کیا کہ اس قدر افسردہ کیوں تمام ماجرا ان سے کہہ دیا اور کہا کہ تم دونوں اس معاملہ میں میری مدد کرو۔انہوں نے کہا جیسے آپ کا ارشاد ہو۔چنانچہ سا ہو کار آیا۔ساہوکار نے بہت حیل و محبت کی لیکن والدہ صاحبہ نے اصل رقم پر ہی فیصلہ کیا اور پھر سا ہوا۔سے کہا کہ میں رقم خود ادا کروں گی۔تم فوراً اس کے مویشی لا کر اس کے حوالے کرد۔جتنا روپیہ اپنے پاس موجود تھا وہ دیا اور باقی اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ پیش کریں جب مولیشی کسان کو مل گئے تو اس کے بیٹے سے کہا کہ جاؤ۔اب جا کر اپنی بچھڑی پکڑ لو۔اب تم سے کوئی نہیں لے سکتا۔زمیری والده از چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مشت (۸۱) عزیز و اقارب پہلے پیرو مرشد ہند و روز نامہ" ملاپ " لاہور نے لکھا کہ چو ہدری صاحب کا استقبال کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر صدر پنجاب کو نسل چوہدری سر شہاب الدین ملاوه سر عبد القادر جج ہائی کورٹ اور سردار سکندر حیات خان ریونیو منسٹر ریو شر حکومت پنجاب جیسے معززین آئے۔یہ سب صاحبان چو ہدری محمد ظفراللہ خانصاب کے استقبال کے لئے جمع ہوئے تھے۔چوہدری صاحب لنڈن سے آرہے تھے مگر گاڑی گورداسپور سے آرہی تھی۔حیرت ہوئی کہ آخر گورداسپور کی گاڑی میں آنے کا کیا مطلب؟ معلوم ہوا کہ آپ پنجاب میں قدم رکھنے کے بعد اپنے خویش و اقارب کو ملنے سے پہلے اپنے پیرو مرشد امام جماعت قادیان کی خدمت میں حاضر ہوتے