قندیلیں

by Other Authors

Page 90 of 194

قندیلیں — Page 90

9۔دل معتبر آیا اور فوراً سلام علیک کر کے واپس تشریف لے گئیں۔ا اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۲۵۳ ) مُعَلِّ مُعَدِّ سید عبداللطیف صاحب شہید کے مقتل پر تین روز تک سخت پہرہ رہا بعد اس کے سرکاری انتظام کیا گیا کہ حضرت شہید کی نعش کو کوئی نکال کر نہ لے جائے۔اور بظاہر کوئی صورت نعش کو نکالنے کی نہ تھی کہ حضرت شہید کے شاگرد احمد نور کابلی جو حضرت شہید مردم کے سفر قادیان میں ان کے ساتھ تھے۔اور سویت سے مشرف ہوئے اور جن کو حضرت شہید نے وصیت فرمائی تھی کہ جب میں مارا جاؤں تو میرے مرنے کی اطلاع حضرت میسج موعود کی خدمت میں عرض کر دینا۔یہ عزم کر کے کابل پہنچے کہ خواہ مجھے بھی بالآخر سنگسار ہونا پڑے میں حضرت شہید کی نعش مبارک نکال کر دفن کرنے کی کوشش کروں گا۔و کابل میں ایک مزدور سے تابوت اور کفن دفن کا سامان وغیرہ اٹھوا کر آدھی رات کے وقت شہادت گاہ پر پہنچے نعش کو پتھروں کے نیچے دبے ہوئے چالیس دن ہو گئے تھے تھوڑی دیر بعد پٹن کے ایک حوالدار بھی جو حضرت شہید کے دوست تھے امداد کے لئے چند اور ساتھیوں کے ساتھ پہنچ گئے۔ایک آدمی کو پرو پر بٹھا دیا گیا اور باقیوں نے پتھر ہٹا کر میدان صاف کر دیا جب نعش مبارک نظر آنے لگی تو ایک اعلی درجہ کی خوشبو نے آپ کے جسد اطہر سے نکل کر فضاء کو معطر کر دیا۔جب نعش مبارک اُٹھا کر کفن میں رکھی گئی نوسید نوراحمد صاحب کو بذریعہ کشف دکھایا گیا کہ پہاڑی کے پیچھے پچاس آدمی اور ایک سوار گشت پر آرہے ہیں۔اس زمانہ میں رات کو پہرہ ہوا کرتا تھا۔اور اگر کوئی رات کو پکڑا جائے تو اسے بار قاتل مار دیا جاتا۔چنانچہ اس کشف پر انہوں نے اپنے ساتھیوں