قندیلیں — Page 82
۸۲ چشم دید انکسار سر فیروز خان نون جو ہماری ملکی سیاست میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام یہ کھتے ہیں اور پاکستان کے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم بھی رہے ہیں نے اپنی سرگذشت میں ایک نہایت دلچسپ اور عجیب واقعہ لکھا ہے جس میں انکساری اور فروتنی کے علاوہ بھی بہت سے قابل توجہ اور قابل غور امور پائے جاتے ہیں وہ اپنی خود نوشت سوانح چشم دید" میں لکھتے ہیں:۔یہ واقعہ مجھے اپنی زندگی کے ایک اور چھوٹے سے واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔جس کا تعلق سر محمد ظفر اللہ سے ہے جو میرے عمر بھر کے ساتھی ہیں۔انہوں نے بلا کی قوت حافظہ پائی ہے۔ایک دفعہ میں سر ظفر اللہ خاں کی دعوت پر مرزا صاحب سے ملاقات کے لئے ربوہ جو احمدیہ فرقہ کا مرکزی صدر مقام ہے ا گیا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی نہیں نے جوتے اتار دئیے۔ملاقات کے بعد جب میں جانے کے لئے کھڑا ہوا تو مرزا صاحب سے باتیں کرتے کرتے پاؤں سے جوتے ٹوٹنے لگا۔یہ دیکھ کر سر ظفر اللہ خاں نیچے جھکے۔میرے جوتے اٹھائے اور قرینے سے جوڑ کر میرے سامنے رکھ دیئے۔بیشتر پاکستانیوں نے اس طرف تپاک کا خواب بھی نہیں دیکھا ہوگا۔وہ تو ایسی حرکت کو شان و وقار کے منافی اور کسر شان سمجھتے ہونگے لیکن ظفر اللہ خاں کے وقار کو اس سے کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔ان کی منکسر المزاجی نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔روزنامه الفضل ۱۳ فروری )