قندیلیں — Page 81
Ai مجھے بار بار آ آکر دکھ دیتے تھے جو ایک دفعہ تکلیف کی شدت میں موت کو سرہانے کھڑے دیکھ کر مجھ سے کہے تھے۔وہ طاری ! مجھے یہ بہت احساس ہے کہ میں تمہارا خیال نہیں رکھ سکی اور جیسا کہ حق تقاتم سے پیار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ سختی کی۔یہ صرف تمہاری تربیت کی خاطر تھا لیکن اس کی بھی مجھے تکلیف ہے۔تم دُعا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس بیماری سے شفا دیدے میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب تمہارا بہت خیال رکھوں گی اور گذشتہ ہر کسی کو پورا کروں گی“۔اور جب یہ الفاظ مجھے یاد آتے تھے تو دل بے قابو ہو جاتا تھا کہ پیار کی ،، خاطر نہیں سختی ہی کی خاطر آئیں لیکن ایک بار واپس آجائیں۔ر تابعین اصحاب احمد جلد سوم - سيرة امتم طاہر صفحه ۲۴۵) نئے نو دن پرانے سودن حضرت منشی ظفر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جالندھر میں زیادہ عرصہ قیام کیا۔جب رکھا اور دوست احباب تو مل کر چلے جاتے تھے لیکن مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور خاکسار برابر ٹھہرے رہے۔ایک دن میں نے اور مولوی صاحب مرحوم نے ارادہ کیا کہ وہ میرے لئے اور میں ان کے لئے رخصت ہونے کی اجازت حاصل کریں۔صبح کو حضور سیر کے لئے تشریف لائے۔اور آتے ہی فرمایا کہ لوجی میاں عبد اللہ صاحب اور منشی صاحب اب تو ہم آپ ہی رہیں گے اور دوست تو چلے گئے۔نئے تو دن ، پرانے سو دن۔بس ہم خاموش ہو گئے اور ٹھہرے سے ہے۔(روایت از الحکم ۱۴ جولائی ۱۹۳۷)