قندیلیں

by Other Authors

Page 80 of 194

قندیلیں — Page 80

آجائے تو بچپن کی نادانی کی وجہ سخت شرم محسوس ہوا کرتی۔بعض دفعہ تو پلیٹ چھپا کر بھاگ جایا کرتا تھا۔میری بہنیں بسا اوقات روٹھ کر کھانا چھوڑ دیتی تھیں کہ ہم نے یہ نہیں کھانا۔اور وہ نہیں کھانا تو سخت خفا اور رنجیدہ خاطر ہوتی تھیں۔میں تو خیر اپنی بھوک کے ہاتھوں مجبور تھا۔اس لئے میرے لئے کھانا کبھی بھی چھوڑنے کا سوال نہیں پیدا ہوتا تھا۔خواہ وہ کرو کا شوربہ ہو یا ٹینڈوں کا مگر لڑکیاں چونکہ نازک طبع ہوتی ہیں اس لئے بعض اوقات ناپسندیدہ کھانے کی نسبت بھوکا رہنے کو ترجیح دے لیتی ہیں۔امتی کے لئے یہ مواقع خاصی پریشانی کا موجب ہوتے تھے اور بڑے ہی دکھ اور فکر سے کہتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر شکر کر کے جو کچھ ہے کھا یا کرد۔دنیا میں اسے غریب بھی بہت ہیں جنہیں ایک وقت کی سوکھی روٹی بھی میستر نہیں آتی۔بس کچھ تو روز مرہ کے کھانے کا معیار گراکر چندوں، خدمت خلق اور مہمان نواری کے لئے بچت کر لیتیں اور کچھ ہمارے کپڑوں کے خرچ میں سے اس غرض کے لئے پے بچالیتیں تحریک جدید کا بہانہ ہاتھ آیا ہوا تھا چنانچہ کپڑے سادہ ہی نہیں بلکہ تعداد کے لحاظ سے واجبی ہی بناتی تھیں۔جو ان بچوں کے لئے تو کافی ہو سکتے تھے۔جو لگائے ہوئے اربع کے مطابق فی جوڑا متوقع دن گزار سکیں مگر میرے جیسے خاک آلود لڑکے کے لئے جس نے دو دن کے کپڑے نصف دن میں گندے کر دینے ہوں۔یہ حساب کبھی درست نہیں بیٹھا۔ر تابعین اصحاب احمد جلد سوم بسيرة أقيم طاہر صفحه ۲۲۹) پیار کی خاطر نہیں سختی ہی کی خاطر آجائیں حضرت خلیفہ المسیح الرابع تحریر فرماتے ہیں کہ اپنی مرحومہ ماں کے وہ الفاظ