قندیلیں — Page 63
۶۳ جب پونڈ جمع ہو گئے تو۔۔۔۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہ بھول سکتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود کی وفات کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن با ہر سے مجھے کسی نے آواز دی اور بلایا اور خادمہ یا کسی بچہ نے بنایا کہ دروازہ پر کوئی آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلا رہا ہے۔میں باہر نکلا تو منشی اروڑ سے خاں صات کھڑے تھے۔وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے مجھ سے مصافحہ کیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔انہوں نے اپنی جیب سے دویا تین پونڈ نکالے اور مجھے کہا۔یہ اماں جان کو دے دیں۔اور یہ کہتے ہوئے ان پر رقت طاری ہوگئی اور وہ چیخیں مار مار کر رونے لگے اور ان کے رونے کی حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے کو ذبح کیا جارہا ہو۔اس آن طرح وہ کئی منٹ تک روتے رہے۔جب ان کو ذرا میر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روٹے کیوں ہیں۔وہ کہنے لگے ہیں غریب آدمی تھا۔جب بھی چھٹی ملتی پھرتا دیاں کے لئے چل نکلتا۔سفر کا بہت حصہ پیدل ہی طے کرتا۔تاکہ سلسلہ کی خدمت کیلئے کچھ پیسے ہی بچ جائیں۔مگر پھر روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا۔یہاں آکر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش میرے پاس بھی ہوتا اور حضرت مسیح میشود کی خدمت میں بجائے چاندی کے تحفے کے سونے کے تحائف پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ بڑھ گئی اور میں نے ہر ماہ کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی۔اور جب کچھ عرصہ بعد اس کے لئے رقم جمع ہوگئی تو دوسرا پونڈ لے لیا۔اس طرح آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے انہیں لونڈوں کی شکل میں