قندیلیں — Page 46
۴۶ نے گنا تو کہنے لگے جتنی رقم کی آپ کو ضرورت تھی بس اس میں اتنی رقم ہی ہے۔در وزن نامه الفشل صفحه ۳ - فروری ۰۱۹۹۵) مبادا تکثیر پیدا ہو جائے حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اسیح اول سے میں روزانہ پڑھنے جاتا۔ایک روز ایک کتاب کے متعلق فرمایا کہ اگر یہ کتاب آپ مجھ سے پڑھ لیں تو ہندوستان بھر میں آپ کے پایہ کا کوئی عالم نہ ہوگا۔لیکن میں نے یہ خیال کر کے نہ پڑھی کہ مبادا تکبر ہو جائے (اصحاب احمد جلد دوازدهم صفحه ۱۷۴) حِسَاباً يسيراً حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت خلیفة المسیح اوّل سے حکیم غلام محمد صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ قرآن شریف میں جوجتا با تینرا آتا ہے اس کی تفسیر کیا ہے سمجھائیں وہ کس طرح ہوگا۔فرمایا۔اچھا۔کچھ دن گزر گئے اور اس اثنا میں جو رقم حضور کے پاس ندمانہ وغیرہ کی آئی آپ حکیم صاحب موصوف کو اپنے پاس رکھنے کی ہدایت کرتے اور جو خر چ آپ کی طرف سے ہوتا انہی کے ہاتھ سے کرواتے۔ایکدن حضور نے ان سے کہا نذرانے وغیرہ کی ہو رقم آپ کے پاس ہے اس کا حساب لکھ کر لائیں کہ کیا کچھ آیا۔کیا خرچ ہوا اور باقی کیا ہے چونکہ موصوف کو یہ خیال دو ہم بھی نہ تھا کہ آپ حساب طلب فرمائیں گے۔