قندیلیں

by Other Authors

Page 45 of 194

قندیلیں — Page 45

۴۵ عورت کے چلے جانے کے بعد جب بستر کو جھاڑنے کے لئے کھولا تو اس کی تہہ میں سے ٹوپی نکل آئی۔(خطبات نورص ۸۷) ایک دن تو لطیفہ ہوا توسط حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت امام جماعت اول کے پاس اکثر لوگ اپنی امانتیں رکھواتے تھے اور آپ اس میں سے ضرورت پر خرچ کرتے رہتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نہیں اپنے فضل سے اس طرح رزق دیتا رہتا ہے۔بعض دفعہ ہم نے دیکھا کہ امانت رکھوانے والا آپ کے پاس آتا اور کہتا کہ مجھے روپے کی ضرورت ہے میری امانت مجھے واپس کر دی جائے۔آپ کی طبیعت بہت سادہ تھی اور معمولی سے معمولی کاغذ کو بھی آپ ضائع کرنا پسند نہیں کرتے تھے جب کبھی کسی نے مطالبہ کرنا تو آپ نے ردی کا غذا ٹھانا اور اس پر اپنے گھر والوں کو لکھ دیا کہ انات میں سے دو سو روپیہ بھیجوا دیا جائے۔اندر سے بعض دفعہ جواب آتا کہ روپیہ تو خرچ ہو چکا۔یا اتنے روپے ہیں اور اتنے روپوؤں کی کمی ہے۔آپ نے اسے فرمانا۔ذرا ٹھہر جاؤ۔ابھی روپیہ آجاتا ہے۔اتنے میں ہم نے دیکھا کہ کوئی شخص دھوتی باندھے ہوئے جونا گڑھ سے یا بمینی کا رہنے والا چلا آرہا ہے اور اس نے اتنا ہی روپیہ پیش کر دیا۔ایک دن تو لطیفہ ہوا۔کسی نے اپنا روپیہ مانگا۔اس دن آپ کے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔مگر اس وقت ایک شخص علاج کے لئے آگیا۔اور اس نے پڑیا میں کچھ رقم لپیٹ کر آپ کے سامنے رکھ دی حافظ روشن علی صاحب کو علم تھا کہ نہ یہ مانگنے والا کتنا رو پید مانگتا ہے۔آپ نے حضرت حافظ صاحب سے فرمایا، دیکھو اس میں کتنی رقم ہے۔انہوں