قندیلیں

by Other Authors

Page 42 of 194

قندیلیں — Page 42

۴۲ طیع تھا۔اس کا نام پیرا تھا۔ایک دن وہ حضرت خلیفہ المسیح اول۔۔۔۔کے مطلب میں آگیا۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا۔تمہارا مذہب کیا ہے ؟ وہ اس وقت وہاں سے چلا گیا۔اور کچھ دیر کے بعد ایک پوسٹ کارڈ لے آیا اور حضور کو عرض کرنے لگا کہ میرے گاؤں کے نمبردار کو یہ خط لکھ دیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ خط کس غرض کے لئے لکھاتا ہے۔کہنے لگا آپ نے خود دریافت کیا تھا کہ میرا مذہب کیا ہے۔آپ ہمارے گاؤں کے نمبر دار کو لکھ کر دریافت کر لیں۔اس کو معلوم ہے۔حضرت نے یہ سن کر تعجب فرمایا کہ اس کی سادگی کس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس کو اپنے مذہب کا علم نہیں (حیات قدسی خصہ پنجم صفحه ۱۱۲ ) خدا تعالیٰ کے باجے حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل جلال پوری فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اپنے اپنے رنگ میں اخلاص کے پہلے تھے لیکن ان دونوں کی طبائع میں نمایاں فرق تھا حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جب بیت الحمد میں تشریف لایا کرتے تھے تو حضرت اقدس کی مجلس میں سب سے آخر میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ جایا کرتے تھے اور جو کچھ حضرت اقدس ارشاد فرماتے اُسے بغور سنا کرتے تھے۔آپ نے کبھی کوئی سوال نہیں کیا۔بلکہ فرماتے تھے کہ یہ خدا تعالیٰ کے لوگ جو کچھ فرمائیں تو جہ سے سنا چاہیے۔لیکن حضرت مولانا عبد الکریم صاحب ہمیشہ حضرت اقدس کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے یہ لوگ دنیا میں روز روز نہیں آتے۔صدیوں بعد خوش قسمت لوگوں کو ان کی زیارت نصیب ہوتی ہے اس