قندیلیں — Page 38
٣٨ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب آئینہ کمالی نیا۔۔۔۔۔کا عربی حصہ لکھ رہے تھے حضور نے مولوی نورالدین صاحب (امام اول) کی ایک بڑا دو ورنہ اس زیر تصنیف کتاب مستورہ کا اس غرض سے دیا کہ فارسی میں ترجمہ کرنے کے لئے مجھے پہنچا دیا جائے وہ الیسا مضمون تھا کہ اس کی خدا داد نصاحت و بلاغت پر حضرت کو نا نہ تھا مگر مولوی صاحب سے یہ دو درقہ کہیں گر گیا۔چونکہ حضرت مسیح موجود مجھے ہر روز کا تازہ عربی مسودہ فارسی ترجمہ کے لئے ارسال فرمایا کرتے تھے۔اس لئے اس دن غیر معمولی دیر ہونے پر مجھے طبعاً فکر پیدا ہوا اور میں نے مولوی نور الدین صاحب سے ذکر کیا کہ آج حضرت کی طرف سے مضمون نہیں آیا۔اور کا تب سر پر کھڑا ہے اور دیر ہو رہی ہے۔معلوم نہیں کیا بات ہے۔یہ الفاظ میرے منہ سے نکلنے تھے کہ مولوی صاحب کا رنگ فق ہو گیا۔کیونکہ یه دو درقہ مولوی صاحب سے کہیں گر گیا تھا۔بے حد تلاش کی مگر مضمون نہ ملا۔اور مولوی صاحب سخت پریشان تھے۔حضرت مسیح موعود کو اطلاع ہوئی تو حسب معمول مسکراتے ہوئے۔باہر تشریف لائے اور خفا ہونا یا گھبرا سٹ کا اظہار کرنا تو درکنار اللا اپنی طرف سے معذرت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کو مسودہ کے گم ہونے سے ناحق تشویش ہوئی۔مجھے مولوی صاحب کی تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گمشدہ کا غذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرما دے گا۔تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۲۰۱-۶۰۲)