قندیلیں — Page 22
۲۲ ناراضگی دور کی اور خوشی خوشی اوپر تشریف لے گئیں۔د روزنامه الفضل ۲۸ فروری (۱۹۹۵) خدام کی دلداری حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور مقلوی فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو اپنے خدام کی دلداری کا بہت خیال رہتا تھا اور حضور ان کے لئے خود اپنی ذات سے ہر قسم کی قربانی اور ایثار کا عملاً اظہار فرماتے تھے۔ایک مرتبہ عید کا دن اور میرا صافہ سرصاف نہ تھا۔اس لئے جب کبھی ہم آتے تھے تو ایک آدھ دن کی فرصت نکال کر آتے۔لیکن جب یہاں آتے اور حضور قیام کا حکم دے دیتے تو پھر ہمیں ملازمت کے چلے جانے کا بھی خیال نہ ہوتا تھا۔اسی طرح عید کا دن آگیا اور میں ایک ہی صافہ لے کر آیا تھا اور وہ میلا ہو گیا۔میں نے چاہا کہ بازار سے جا کر خرید لاؤں۔چنانچہ میں بازار کی طرف جارہا تھا۔آپ نے مجھے دیکھ لیا اور آپ کی فراست خدا داد تھی۔پوچھا کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ عید کا دن ہے میرا صافہ میلا ہے۔میں بازار سے خرید نے جا رہا ہوں۔اسی وقت وہاں ہی کھڑے اپنا عمامہ شریف اتار کر مجھے دے دیا۔اور فرمایا۔یہ آپ کو پسند ہے ؟ آپ لے لیں ہیں دوسرا باندھ لیتا ہوں۔مجھ پر اس محبت اور شفقت کا جو اثر ہوا الفاظ اسے ادا نہیں کر سکتے ہیں نے نہایت احترام کے ساتھ اس عمامہ کو لے لیا۔اور آپ بے تکلف گھر تشریف لے گئے اور دوسرا عمامہ باندھ کر آگئے۔۔(اصحاب احمد جلد چهارم صفحه ۱۶۶ -۱۶۷) (146-144)