قندیلیں — Page 189
۱۸۹ حضور کا منتظر پایا۔وہ بے تحاشا حضور کی طرف دوڑا اور حضور کے قدم پکڑنا چاہیے۔حضور نے اسے پکڑا اور سیدھا کھڑا کر کے پوچھا کہ کیا بات ہے۔اس نے کہا میری زندگی موت سے بدتر ہے۔آپ دعا کریں کہ مجھے اس زندگی سے نجات مل جائے حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ خدا نے مجھے زندہ کرنے کے لئے بھیجا ہے مارنے کے لئے نہیں ہیں آپ کی صحت کے لئے دعا کروں گا۔وہ شخص مرگی کے مرض میں مبتلا تھا۔اس کے بعد بیس دن قادیان میں ٹھہرا رہا لیکن اس پر مرض کا حملہ نہیں ہوا۔و اصحاب احمد جلد دہم ص ۲۳۹) قدام سے عفو و درگذر محمد اکبر خاں صاحب سنوری بیان کرتے ہیں کہ جب وطن چھوڑ کر ہم قادیان آگئے تو حضر مسیح موعود کا یہ قاعدہ تھا کہ رات کو عموماً موم بتی جلایا کرتے تھے اور بہت سی موم بتیاں اٹھی روشن کر دیا کرتے تھے۔جن دنوں میں آیا میری لڑکی بہت چھوٹی تھی۔ایک دفعہ حضرت اقدس کے کمرے میں بتی جلا کر رکھ آئی۔اتفاق ایسا ہوا کہ وہ بنتی گر پڑی اور تمام مسودات جل گئے۔علاوہ ازیں اور بھی چند چیزوں کا نقصان ہوا۔بتھوڑی دیر کے بعد جب معلوم ہوا کہ حضرت اقدس کے کئی مستورات ضائع ہو گئے ہیں تو تمام گھر میںگھبراہٹ میری بیوی اور لڑکی کو سخت پریشانی ہوئی کیونکہ حضرت اقدس کتابوں کے مسودات بڑی احتیاط سے رکھا کرتے تھے لیکن جب حضور کو معلوم ہوا تو حضور نے اس واقعہ کو یہ کہ کر رفت گذشت کر دیا کہ خدا کا بہت ہی شکر ادا کرنا چاہیئے کہ کہ ٹی اس سے زیادہ نقصان نہیں ہو گیا اسيرة مسیح موعود مرتبه یعقوب علی عرفانی صفحه ۱۰۳-۱۰۴)