قندیلیں — Page 190
19۔ٹکڑے ہی کافی ہیں مکرم شیخ نور احمد صاحب فرماتے ہیں کہ جنگ مقدس کی تقریب پر بہت سے مہمان جمع ہو گئے تھے۔ایک روز حضرت مسیح موعود کے لئے کھانا رکھنا یا پیش کرنا گھر میں بھول گیا۔میں نے اپنی اہلیہ کو تاکید کی ہوئی منفی مگر وہ کثرت کارد با را دو مشغولیت کی وجہ سے بھول گئی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور حضرت نے بڑے انتظار کے بعد استفسار فرمایا تو سب کو فکر ہوئی۔بازار بھی بند ہو چکا تھا اور کھانا نہ مل سکا۔حضرت کے حضور صورت حال کا اظہار کیا گیا۔آپ نے فرمایا۔اس قدر گھبراہٹ اور تکلف کی کیا ضرورت ہے۔دستر خوان کو دیکھ لو کچھ بچا ہوا ہوگا وہی کافی ہے دستر خوان کو دیکھا تو اس میں روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے۔آپ نے فرمایا۔یہی کافی ہیں اور ان میں سے ایک دو ٹکڑے لے کر کھالئے اور ہیں۔(سیرة مسیح موعود مصنفہ یعقوب علی عرفانی جلد سوم صفحه ۳۳۳) ایک معجزہ جن ایام میں حضور گورداسپور میں مقدمات کی پیروی کے لئے قیام پذیر تھے ایک روز مولوی یار محمد صاحب قادیان سے گورداسپور پہنچے اور انہوں نے حضرت ابان جان کی علالت کی خبر دی مفتی فضل الرحمن صاحب کے پاس ایک گھوڑا تھا اور وہ اپنا گھوڑا لے کر گورداسپور رہا کرتے تھے تاکہ اگر ضروری کام پیش