قندیلیں

by Other Authors

Page 170 of 194

قندیلیں — Page 170

14۔بالا افسر جو کہ بھلوال میں رہتا تھا اس تک رپورٹ کر دی۔یہ افسر سہندو تھا۔اس کو خوب بھڑکایا گیا۔اور یہ بھی بتایا گیاکہ یہ محکمہ کا کام کرتا ہے بلکہ یہ پیری مریدی زیادہ کرتا ہے۔یہ افسر کچھ دنوں کے لئے محکمانہ تحقیق کے لئے میانی آیا اور سرکاری سرائے میں ٹہرا شہر کے معزز ہندوؤں کو بھی اس نالش کا علم ہو گیا۔وہ وفد کی صورت میں اس ہندو افسر کے سامنے پیش ہوئے اور سب نے یک زبان ہو کر عرضداشت پیش کی کہ میاں صاحب تو بہت ہی نیک اور بزرگ آدمی ہیں آپ ان کو سزا د غیرہ نہ دیں۔ہندو افسر بڑے غصے کے عالم میں تھا۔وہ اس قدر بھڑکایا گیا تھا کہ اس نے عززین کی بات پر کان نہ دھرے بلکہ کہنے لگا کہ میں ضرور سزا دونگا میاں صاحب حسب عادت خاموش سب منظر دیکھ رہے تھے۔ہندو افسر غصہ میں کاغذ قلم دوات جو کہ سامنے رکھی تھی کی طرف لپکا۔اور میاں سلطان احمد کے لئے سزا لکھنے لگا کہ ایکا ایک ناک سے نکسیر پھوٹ پڑی اور سفید کاغذ سرخ لال لال لہو سے لہو لہان ہو گیا۔اس وقت معززین نے کہا کہ مہاراج آپ نے پرماتما کا فیصلہ دیکھ لیا ہے۔اب میاں سلطان احمد صاحب کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔یہ رشی ہیں۔ان سے آپ شماں مانگیں۔ہندو افسر پر حقیقت کھل گئی اور اس نے میاں صاحب کو بری قرار دے دیا اور معافی بھی مانگی۔۔الفضل ۲۸ مئی ١٩٩٤ء ) دنیا پرست حضرت رابعہ بصری سے ایک دن کسی شخص نے دنیا کی بہت ہی مذمت کی۔آپ نے توجہ نہ فرمائی۔لیکن جب دوسرے دن اور پھر تمیرے دن بھی یونہی