قندیلیں

by Other Authors

Page 171 of 194

قندیلیں — Page 171

161 کہا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو ہماری مجلس سے نکال دو کیونکہ یہ کوئی بڑا وہ پرست معلوم ہوتا ہے جب ہی تو بار بار ذکر کرتا ہے۔الفضل ۲۸ را پریل ۱۹۹۲ ) امانت و دیانت کی عمدہ مثال مکرم عبد الرحمن شاکر صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ۱۹۳۰ء میں میرے والد چودھری نعمت اللہ گو ہر سمرالہ ڈی پی اسکول میں سیکنڈ ماسٹر تھے۔ایک دن حکیم محمدعبد اللہ صاحب تشریف لائے۔فرمانے لگے کہ قادیان جا رہا ہوں۔کوئی کام ہو تو بتائیں۔والد صاحب نے میرے نام ایک خط لکھ کر اور دو روپے بھی دیئے کہ میرے بیٹے کو دے دیں۔حکیم صاحب مجھے تلاش کرتے ہوئے آئے۔تھوڑی دیر بیٹھ کر فرمایا کہ تمہارے ابا نے یہ رقعہ دیا ہے۔میں نے کھول کر وہ پڑھا۔حکیم صاحب نے جیب سے نکال کر مجھے چار روپے اور چند آنے دیئے۔یہ تمہارے لئے ہیں۔میں نے حیران ہو کر کہا کہ خط میں تو دو روپے لکھے ہوئے ہیں۔یہ آپ زاید کیوں دے رہے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ جب میں سمرالہ سے چلا تو بس کے چلنے میں کچھ وقت تھا نہیں نے سوچا کہ کیوں نہ ان روپوں سے کچھ تجارت کرلوں۔چنانچہ میں نے سخت گرمی کے پیش نظر چند پنکھے خرید لئے کچھ تو میں نے بس کی سواریوں میں فروخت کر دئیے۔اور باقی ماندہ لدھیانہ سے امرتسر پہنچنے تک فروخت کر دئیے جو حاصل ہوا وہ تم کو دیتا ہوں میں نے بہت کہا کہ یہ آپ لے لیں۔مگر وہ سلام کر کے رخصت ہو گئے۔الفضل ۱۲ر اپریل ۱۹۸۹ ، صفحہ ۶) 7