قندیلیں — Page 167
146 نے محض اس عاجز بندے کے لئے کیا تھا اور نہ آپ کے والد صاحب سے کہاں یہ ممکن تھا کہ ۵۰۰ روپے روزانہ پر دہلی سے حکیم بلواتے۔سجدہ کی حالت میں پرچہ دکھایا گیا مکرم میاں محمد ابراہیم صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب (سابق سردار مهر سنگھ ، ایک ممتاز شخصیت تھے جہنوں نے احمدیت قبول کی تو امتحان سے ایک روز پیشتر مغرب کی عبادت کے وقت معین طور پر ان کو خیال آیا کہ میری کلاس کو تو نصاب سے کوئی شدھ بدھ ہی نہیں کل تاریخ کا پرچہ ہے اس امتحان سے کیسے نبٹیں گے۔اسی کشمکش میں عبادت شروع ہوئی اور اس نیک صالح اور عابد بندے نے خدا سے گڑ گڑا کر دعا کی۔بچے بھی مایوسی کے عالم میں سجدہ ریز ہو گئے۔آخری سجدہ میں سب کی چیخین نکل گئیں۔کہ الٹی پڑھا پڑھایا تو کچھ نہیں اور صبح امتحان ہے۔ہمارا کیا بنے گا۔اسی دوران حضرت ماسٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے سجدہ کی حالت میں وہ پرچہ سوالات دکھایا جو صبح امتحان میں آنا تھا۔آپ نے وہ سب سوالات توجہ سے پڑھ لئے جو ان کے دل و دماغ اور نظر میں آرہا تھا اور سلام پھیرتے ہی طلباء سے کہا کہ فورا کا غذ پنسل لے آؤ اور جو سوال میں لکھواتا ہوں لکھ لو طلباء نے استاد کی تعمیل کی۔سات آٹھ سوال جو انہوں نے لکھوائے لکھے اور رات بھر طلباء نے ان کو یاد کیا۔دعا کا زور دیکھیں۔وہی سوال اسی ترتیب سے دوسرے دن پرچہ میں آئے جو حضرت ماسٹر صاحب کو اس سے ایک روز قبل دکھایا گیا تھا د روزنامه الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۹۳ )