قندیلیں — Page 168
بے باکی پر ابتلاء کڑیانوالہ ضلع گجرات کے میران بخش صاحب جو حضرت اقدس کے رفقاء میں سے تھے۔۱۹۰۴ء میں انہوں نے اپنے لڑکے کی شادی کے موقع پر سید نا حضرت مسیح موعود کو مشمولیت کی دعوت دی حضور ان دنوں سیالکوٹ تشریف لائے ہوئے تھے۔اس بات کی قومی امید تھی کہ حضور اپنے خدام کی دعوت قبول کر کے کڑیانوالہ تشریف لائیں گے۔لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے حضور اس تقریب میں شامل نہ ہو سکے۔چونکہ ارد گرد کے علاقہ میں حضرت اقدس سیچ موعود کی کڑیا نوالہ میں آمد کے متعلق مشہور ہو چکا تھا اس لئے بہت سے علماء گھر ھوں پر کتابیں لاد کر مباحثہ کے لئے آگے آگئے۔میاں میراں بخش صاحب نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو گجرات سے بلایا۔شادی کے موقع پر حضرت مولوی صاحب کو معلوم ہوا کہ اس شادی شدہ لڑکے کے سوا میاں میران بخش کے سب بیٹے گونگے اور بہرے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے اس ابتلاء کی وجہ میاں میران بخش مناب سے پوچھی۔تو انہوں نے بتایا کہ میری سالی کا ایک بچہ گونگا تھا اور بہرا تھا میں نے بطور استہزار اس کو کہنا شروع کر دیا کہ اگر بچہ جننا تھا تو کوئی بولنے سننے والا جنتی یہ کیا نا کارہ گونگا اور پہرا بچہ جنا ہے۔جب میں تمسخر میں حد سے بڑھ گیا تو میری سالی کہنے لگی۔خدا سے ڈرو۔ایسا نہ ہو کہ تمہیں ابتلا آجائے۔اللہ تعالیٰ کی ذات تمسخر کو پسند نہیں کرتی۔اس پر بھی میں اس استہزاء سے باز نہ آیا بلکہ ان سے سے کہتا کہ دیکھ لینا میرے ہاں تندرست اولاد ہوگی میری یہ بیباکی اللہ تعالیٰ کی نا را نگی کا باعث بنی اور میرے ہاں گونگے اور بہرے بچے پیدا ہونے لگے ہیں نے اس ابتلاء