قندیلیں — Page 164
140 جنتیوں کے رجسٹر میں نام حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی فرماتے ہیں کہ " سیدنا حضرت اقدس کے عہد ہمایوں میں ایک مرتبہ میں قادیان مقدس میں حاضر ہوا تو منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی سے ملاقات ہوئی۔حضرت منشی صاحب ان دونوں مہمان خانہ کی بجائے سیدنا حضرت مسیح موعود کے بیت الفکر میں سویا کرتے تھے۔ایک رات عشاء کی نماز کے بعد مختلف مسائل کے متعلق گفتگو کرتے کرتے آپ نے مجھے کہا کہ میں آج کل بیت الفکر میں سویا کرتا ہوں۔آئیے ! وہاں ہی چل کر بیٹھیں اور گفتگو کریں۔چنانچہ میں آپ کے ساتھ ہو لیا اور ہم دونوں دیر تک بیت الفکر میں باتیں کرتے رہے۔یہاں تک کہ جب ۱۰ ۱۱ بجے کا وقت ہو گیا تو آپ نے مجھے کہا کہ آپ یہاں میرے پاس سو رہیں۔میں نے بھی مناسب مگر آپ تو سو گئے اور میرے دل پر قیامت کا ہولناک تصور کچھ ایسے رنگ میں مستولی ہوا کہ میں رات کے تقریباً دو بجے جبکہ میری حالت قوت ضبط سے باہر سونے لگی آہستہ سے بیت الفکر سے باہر نکلا۔اور قادیان سے مشرق کی طرف ایک بیری کے درخت کے پاس صبح کی اذان تک روتا رہا۔نمازہ کے وقت مسجد مبارک میں آیا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے پیچھے نماز ادا کی نماز کے بعد منشی صاحب فرمانے لگے آپ مجھے سویا ہوا چھوڑ کر خود بیت ، میں تشریف لے گئے۔مجھے بھی جگا لیتے تو میں بھی آپ کے ساتھ (بیت ، میں آجاتا۔میں نے کہا کہ آپ آرام سے سوئے تھے۔میں نے آپ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔اس کے بعد قیامت کے ہولناک تصویر سے کچھ روز تک خوفزدہ رہا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود مسجد