قندیلیں — Page 163
یرا چو تھالڑ کا کوئی چار پانچ سال کا تھا کہ اس کو سانپ نے کاسٹ کیا مگر اس نے سانپ کو نہ دیکھا تھا۔اور یہ سمجھتا تھا کہ اس کو کانٹا لگا ہے۔میں نے بھی سوئی سے جگہ پھول کر دیکھی کچھ معلوم نہ ہوا۔لیکن جب بچہ کو چھالا ہو گیا اور سورج پڑگئی تو معلوم ہوا کہ وہ کا شانہ تھا جس کا زہر چڑھ گیا اور بچہ چھٹے دن فوت ہو گیا جیب حضرت صاحب کو علم ہوا تو آپ نے افسوس کیا اور فرمایا مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔میرے پاس سانپ کے زہر کی دوا تھی۔مجھے بچے کے فوت ہونے کا بہت غم ہوا اور میں نے رو رو کر برا حال کر لیا۔جب حضرت صاحب کو حضرت اماں جان نے بات بتائی تو حضرت صاحب نے مجھے طلب فرما کر نصیحت کی اور بڑی شفقت سے فرمایا۔دیکھو بی بی یہ تو خدا کی امانت تھی اس نے لے لی تم کیوں پریشان ہوتی ہو اور فرمایا کہ ایک بہت نیک عورت تھی۔اس کا خاوند یا ہر گیا ہوا تھا جس دن اس نے واپس آنا تھا۔اس دن ان کا ایک ہی جوان بیٹا فوت ہو گیا تھا۔اس عورت نے اپنے بچے کو غسل اور کفن دے کر ایک کمرے میں رکھ دیا اور خود خاوند کی آمد کی تیاری کرنے لگی۔کھانا پکایا۔کپڑے بدلے زیور پہنا اور جب خاوند آگیا تو اسکی خاطر داری تو میں مشغول ہوگئی جب وہ کھانا کھا چکا اور آرام کر چکا تو اس نے کہا میں آپ سے ایک بات پوچھتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی کی امانت کسی کے پاس ہو اور وہ اس کو واپس مانگے تو کیا کرنا چاہیئے۔اس نے کہا کہ فوراً امانت شکریے کے ساتھ واپس کر دینی چاہیے۔تو اس نیک بی بی نے کہا کہ۔ایک امانت آپ کے پاس بھی تھی۔پھر وہ اپنے خاوند کو اس کمرے میں لے گئی جہاں بچے کی نعش پڑی ہوئی تھی اور کہا کہ اب آپ اسے خدا کے سپرد کر دیں۔یہ سن کر میرا دل ٹھنڈا ہو گیا اور میں نے جوع فزع چھوڑ دی اور یوں مجھے اطمینان حاصل ہو گیا۔1990 ا را الفضل ۲۵ مئی ۱۹۹)