قندیلیں — Page 156
104 اور پیسے میرے پاس نہیں ہیں۔اس کو بھی دو پیسے کی گاجریں لے دیں اور پیسے اپنے ذمہ ڈال لئے جب بائع نے قیمت طلب کی تو میں نے اس سے کہا کہ تم قادریان میں گاجریں فروخت کر لو واپسی پر ہم پیسے دے دیں گے۔اس نے نہایت اضطرا سے کہا ئیں نے قادیان سے اشیاء خریدنی ہیں مجھے دو آنے دے دو۔اس پر مجھے بہت فکر ہوئی اور اپنا ایک بچہ ایک معمار کے پاس بھیجا جو کہ دار الضعفاء کی بیت پر کام کرتا تھا کہ دو آنہ نقد دے دو ہم تم کو کل دے دیں گے۔میاں نبی بخش معمار سیالکوٹی نے بلا تامل دو آنہ حوالے کئے اور گاجر فروش لیکر چلا گیا بچوں نے سارا دن انہی گاجروں پر سر گیا۔جب وہ روٹی مانگتے تو میں اُنکے پیٹ کا حال پوچھتا۔وہ کہتے کسی قدر درد ہے میں اس پر کہ دیتا کہ جب تک پیٹ صاف نہ ہو جائے کھانا مناسب نہیں یہاں تک کہ شام کو بھی ان کو یہی جواب دے کر سلا دیا گیا۔اور خود بھی چار پائی پر لیٹ گیا۔بیوی بھی خاموش ہو کو پڑی رہی اتنے میں دروازہ کھٹکنے کی آوانہ آئی نہیں نے بیوی سے کہا تو وہ فرشتہ آیا جس کا مطلب یہ تھا کہ اب خدا نے تمہارے لئے کچھ کھانے کا سامان بھیجا ہے۔دروازہ کھولنے پر معلوم ہوا حافظ معین الدین صاحب تشریف لائے ہیں۔نہیں نے پوچھا اس وقت کیوں تکلیف فرمائی۔فرمایا میں عشاء پڑھ کر سونے لگا تھا کہ یکا یک میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ فلاں کا حال پوچھنا چاہیے۔اس لئے آیا۔میں نے ان کو باعزت احترام گھر میں لاکر بیٹھایا۔آپ نے فرمایا میرے پاس کچھ روٹیاں آئی تھیں۔میں نے کہا۔میرے پاس رکھی ہوئی صبح تک خراب ہو جائیں گی اس لئے تمہارے پاس لایا ہوں تمہارے بچے کھا لیں گے نہیں نے کہا کہ بچے تو آرام سے پڑ کر سو رہے ہیں آپ نے اس وقت بڑی تکلیف اٹھائی۔آپ نے فرمایا۔اچھا آپ کے مرغ کھا نہیں