قندیلیں — Page 143
۱۴۳ اور العین حق " کا فرمان نبوی اس کا مصدق ہے۔اس لئے بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھوٹے بچوں کی ٹھوڑی پر یا چہرہ پر سیاہ داغ لگا دیتے تھے تاکہ نظر بد کے اثرات سے بیچے جائیں۔بہر حال اقبال احمد کے متعلق مجھے نظر یکہ کے لگنے کا ہی خیال ہوا۔یں عبادت مغرب کے لئے بیت الذکر میں گیا۔اور وہاں پر بعض ضروری امور کی سرانجام دہی کی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔جب میں مکان پر واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بچہ شدت تکلیف اور درد سے کراہتے ہوئے اللہ کے حضور دعا کر رہا ہے کہ "اے میرے مہربان خدا مجھ پر مہربانی فرما میری تکلیف دور کر دے اور میری ننھی سی جان پر رحم فرما۔اب تو میری آنکھوں سے کچھ نظر بھی نہیں آتا۔ان کو صحت دے تاکہ میں دوبارہ دیکھنے لگ جاؤں ، جب میں نے بچہ کو اس طرح دعا کرتے ہوئے سنا تو میرا قلب جوش، شفقت اور جذبہ ترحیم سے بیتاب ہو گیا۔۔۔۔۔۔میں نے اس کو گود میں بٹھا لیا اور اشکبار آنکھوں سے تضرع اور اضطراب سے دُعا میں مشغول ہو گیا۔میں دعا کر ہی رہا تھا کہ محمد پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے اپنے خیر الراحمین اور خیر المحسنین خدا کو سامنے دیکھا۔اس روف ریہ اور بے مثل خدا نے مجھے فرمایا کہ " اس بچے کی سب تکلیف تپ اور دور دا بھی ڈور کردی جائیگی۔اور ورم بھی صبح تک دور کر دی جائیگی " میں نے اس بشارت سے عزیزہ اقبال احمد کو اسی وقت اطلاع دے دی۔تب اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے تپ اور درد چند منٹوں میں جاتے رہے اور صبح کے وقت جب عزیز اٹھا تو اس کی متورم آنکھیں بھی بالکل ٹھیک اور صحتیاب ہوگئی تھیں چنانچہ بچے نے اُٹھتے ہی خوشی سے اس بات کا اظہار کیا کہ کہیں اب بالکل اچھا ہوں اور مجھ پر اللہ کا فضل