قندیلیں — Page 139
١٣٩ محبت کے رعب تھا۔اور آپ کے بعض خاص اصول تھے جن پر آپ اولاد کو سنتی سے کاربند ر کھتے تھے نہیں نے ہمیشہ ابا جان کو ابا حضور کی خدمت اور اطاعت میں پیش پیش پایا۔میری شادی کے موقعہ پر ابا جان نے بہت سے احباب کو مدعو کیا ہوا تھا سینکرونی کا سامان پھیل اور مٹھائیاں اور فالتو برتن لاہور سے منگوائے ہوئے تھے۔آیا حضور مالکہ کولہ میں تھے اور کسی وجہ سے شادی میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔شادی سے ایک دن قبل ابا جان کے نام آپ کا ایک خط آگیا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ شادی کے روز نہ بارات اور نہ لوگوں کی دعوت کا انتظام کیا جائے کیونکہ میں اصولی طور پر اس کے خلاف ہوں مجھے یاد ہے ابا جان نے دعوت روک دی اور وہ ڈھیروں ڈھیر مٹھائی اور پھل ادھر اُدھر لوگوں کے گھروں میں بانٹ کرختم کیا۔( اصحاب احمد جلد و و از دهم صفحه ۱۸۴) ایثار کا حسین نمونه محترم جناب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اسے فرماتے ہیں کہ ہجرت کے ۱۹۴ موقع پر جب میں قادیان سے وسط نومبر 1 میں لاہور پہنچا تو اس وقت میرے پاس اپنے سارے خاندان کے افراد کے لئے جو اس وقت لاہور میں موجود تھے۔اور تعداد میں آٹھ تھے صرف ایک لحاف تھا۔میں نے دوسرے دن حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب سے اپنی حالت کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی انتظام کرتا ہوں اور یہ کہ کر اندر تشریف لے گئے اور نہایت خوبصورت اور قیمتی اور اچھا خاصا بڑا لحاف لا کر مجھے دے دیا اور خود حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ اماں جان میرے پاس رات سونے کے لئے کوئی لحاف نہیں۔اماں جان نے فرمایا۔میاں