قندیلیں — Page 135
۱۳۵ خط لکھ کر مجھے دے دیا اور میں نے اسے سینہ پر رکھ لیا اور سو گئی اور صبح ہوتے ہی ڈاک میں بھیجوا دیا۔" ( اصحاب احمد جلد یاز دہم ص 4 ) پیارے ہاتھوں سے لذیذ کھان حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دن دوپہر کے وقت ہم مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے اور کھانا وہاں کھا رہے تھے کہ کسی نے اس کھڑکی کو کھٹکھٹایا جو کہ کوٹھڑی سے مسجد مبارک میں کھلتی تھی ہیں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود خود تشریف لائے ہیں۔آپ کے ہاتھ میں ایک طشتری ہے جس میں ایک ران بھنے ہوئے گوشت کی ہے۔وہ حضور نے مجھے دے دی اور حضور فوراً اندر تشریف لے آئے اور ہم سب نے بہت خوشی سے اسے کھایا۔اس شفقت اور محبت کا اثر اب تک میرے دل میں ہے اور جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو میرا دل خوشی اور فخر کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ( اصحاب احمد جلد یاز دہم ص ۵۲) رفقائے میسج کا احترام لازمی ہے 19ء میں جب انفلوئنزا کی زبا شدت اختیار کر گئی اور سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی سخت بیمار ہو گئے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی فرماتے ہیں کہ ان ایام میں خاکساری ہور سے مرکز مقدس آیا اور حضور کی شدید علالت کے پیش نظر حضور کی عیادت کے لئے حاضر ہوا حضور اس وقت چار پائی پر