قندیلیں

by Other Authors

Page 127 of 194

قندیلیں — Page 127

۱۲۷ ہے۔میں کسی کام کے لئے گھر سے نکلا۔بازار میں مجھے دفتر کا آدمی ملا اور اس نے بتایا کہ حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قصر خلافت میں یاد فرمایا ہے میں سید معا دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں پہنچا اور اپنے حاضر ہونے کی اطلاع حضور انور کی خدمت میں بھیجوائی۔اتفاق سے اس وقت میرے پاس کوئی رقم نہیں نفی میرے دل میں حضور۔۔۔کی خدمت میں خالی ہاتھ جانے سے انقباض محسوس ہوا۔چنانچہ میں نے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ایک کارکن سے مبلغ دس روپے بطور قرض لئے ہو حضور نے از راہ کریمانہ قبول فرمائے جب میں ملاقات سے فارغ ہو کر نیچے دفتر میں آیا تو اتفاق سے ایک معزز احمدی وہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے دیکھ کر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔اور کہا کہ میں نے آپ کے گھر طلاقات کے لئے جانا تھا۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ نہیں ملاقات ہو گئی اور ایک بند لفافہ میرے ہا تحفہ میں دیا جس میں یک صد روپیہ کے نوٹ تھے۔یہ رقم سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے بابرکت وجود کا نشان رحیات قدسی حصہ چهارم من تھا۔نفس کی سرکشی نے ڈس لیا حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی مرکزہ کی طرف سے اطلاع ملنے پر کہ بعض غیر احمدی علماء کی وجہ سے چند کمزور احمد می ارتداد اختیار کر گئے ہیں کہ تشریف لے گئے۔جب وہ بچی مرگ چوہدری راج محمد صاحب کے ساتھ پہنچے تو مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ چوہدری راج محمد صاحب کے گھر والے شدت گریا کے احساس سے اوپر کے سرد پہاڑوں پر جاچکے تھے صرف ان کی ایک بہو گھر میں