قندیلیں — Page 126
طرف سے ماتم پر سی ہو تو لازمی ہے کہ یہ کسی اعلیٰ اور ارفع مستی کی موت اور وصال سے وابستہ ہو۔اس خیال کا آنا تھا کہ آپ کو قطعی یقین ہوگیا کہ یہ حضرت والد صاحب کا ہی وصال ہے۔یہ خیال آتے ہی اسی غم و حزن کی حالت میں آپ سید سے انگریز ڈپٹی کمشنر صاحب جالندھر کے بنگلہ کو تشریف لے گئے اور ان کو اطلاع دی کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔مجھے فوراً رخصت دی جائے میں جا رہا ہوں۔صاحب موصوف نے پوچھا کہ کیا والد صاحب کی وفات کی اطلاع آپ کو راستہ میں ملی ہے یا کوئی آدمی آیا ہے۔مگر آپ نے جواب دیا کہ نہ کوئی تار آیا ہے نہ کوئی آدمی صرف خدائی تار آیا ہے اور صاحب موصوف کے پوچھنے پر تمام ماجرا سنایا تو صاحب کو بہت حیرت ہوئی کہ اس پر اتنا یقین کو لیا اور کہا۔ایسی کوئی بات نہیں۔آپ کو وہم ہو گیا ہے۔آپ رخصت کے لئے جلدی نہ کریں۔لیکن آپ کامل یقین کے ساتھ رخصت پر مصر رہے مگر صاحب بہادر کے اصرار پر واپس بنگلہ تشریف لے گئے تھوڑی دیر بعد ہی آپ کو حضرت اقدس کی وفات کا تار موصول ہو گیا۔چنانچہ وہ تار لے کر واپس صاحب کے بنگلہ پر گئے۔اور بتلایا کہ اس وقت میں دورہ سے سیدھا آپ کے پاس آگیا۔وہ خدائی اطلاع کی بنا پر تھا۔اب یہ تار آ گیا ہے۔صاحب بہادر یہ کیفیت دیکھ کر بہت ہی حیران اور ششدر رہ گئے کہ آپ لوگوں کو خدا پر کیسا یقین۔وثوق اور ایمان ہے اور صاحبزادہ صاحب کو رخصت دے دی۔( اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۷۴-۱۷۵) برکت کا نشان حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی۔۔۔۔فرماتے ہیں عرصہ کی بات