قندیلیں — Page 120
۱۲۰ حکومت کی طرف سے جو زر مبادلہ دیا گیا وہ ساری رقم فی سبیل اللہ خرچ کردی گئی۔تابعین اصحاب احمد جلد دہم ص 134) دعوت الی اللہ مکرم بشیر احمد خاں رفیق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ مکرم عزیز دین (وفات یافتہ) کو دعوت الی اللہ کا شوق ہی نہیں جنون تھا۔دعوت الی اللہ ان کا اوڑھنا بچھونا اور ان کی زندگی کا مقصود تھا۔1947ء میں میں نے حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی کی ہدایت پر برائٹن میں ہفتہ وار تقاریر کا اہتمام کیا اور ایک ہال کرایہ پر لے لیا۔پروگرام میں مستقلاً عزیز صاحب کی صدارت اور میری تقریر شامل ہوتی تھی۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ باوجود ہماری پلیسٹی کے مقررہ وقت پر ہال میں کوئی بھی نہ آیا۔جب وقت زیادہ گزر گیا تو عزیز صاحب فرمانے لگے کہ ہال کے باہر جو بنچ ہے اس پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔آپ اخبار پڑھیں کہیں راہ چلتے ریگزاروں کو گھیر گھار کے ہال میں لے جانے کی کوشش کرتا ہوں اور جب معقول حاضری ہو جائے گی تو میٹنگ کر لیں گے۔چنانچہ میں تو بنچ پر بیٹھ گیا اور ایک اخبار پڑھنے لگا۔عزیز صاحب ہر گزرنے والے کو دعوت دیتے اور کچھ دور اس کے ساتھ چل کر اسے میٹنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے۔دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن عزیز صاحب کو کوئی کامیابی نہ ہوئی۔بالاآخر ایک گونگا بہرا شخص ملا۔عزیز صاحب اسے لے کر پنج پر بیٹھ گئے اور مجھے کہنے لگے۔چلو اور کچھ نہیں تو اسے ہی دعوت الی اللہ کرتے ہیں۔مجھ سے اخبار لے کر خالی جگہوں پر عزیز صاحب چند کلمات لکھتے تھے۔گونگا ہرہ ان کا جواب