قندیلیں — Page 73
۷۳ زندگی میں جنہیں عمر بھر نہیں بھلا سکتا۔ابھی تک وہ واقعہ مجھے بہت پیارا لگتا ہے۔میں بہت چھوٹا تھا اور مدرسہ احمدیہ نیا نیا داخل ہوا تھا۔حسرت اماں جان نے مجھے حکم دے رکھا تھا کہ میں باقی نمازیں تو بیت مبارک میں پڑھوں لیکن چونکہ پڑھنا اور سونا ہوتا تھا اور بہت مبارک میں عبادت دیر سے ہوتی تھی۔اس لئے عشاء کی عبادت کے لئے بیت اتمی جایا کروں۔وہ بھی پاس ہی تھی۔حضرت امام جاست احمدیہ الثانی چونکہ ہر وقت کام میں مشغول رہتے تھے۔بعض دفعہ دیر سے عبادت کے لئے تشریف لاتے تھے۔بہر حال میں عشاء کی عبادت بہت اقصی جایا کرتا تھا۔والی سیڑھیاں یعنی بہت مبارک کی وہ سیڑھیاں جو اس دروازہ کے پاس میں جو کہ دار المسیح کے اندر جانے والا دروازہ ہے۔دار کے نیچے ایک گلی تھی۔وہ گلی چھٹی ہوئی تھی اور وہاں اندھیرا ہوا کرتا تھا۔اب تو شاید وہاں پر بجلی لگ گئی ہو گی۔اس زمانہ میں بجلی نہیں تھی اور دار کے اندر جانے والے دروازے میں سے جہاں سے میں اترتا تھا وہ گلی بڑی اندھیری تھی۔ایک روزہ میں جب نیچے اترا تو اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں کی ایک قطار نفی اور وہ قطاروں میں عبادت کرنے جایا کرتے تھے اس گھلی میں سے گزر رہی تھی میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔لیکن چونکہ اندھیرا تھا۔اس لئے اتفاقا میرا پاؤں آگے چلنے والے لڑکے کے پاؤں پر پڑا۔اس نے سلیپر پہنے ہوئے تھے جب اس نے ایڈی اٹھائی تو اس کے سلیپر پر میرا پنجہ پڑ گیا تو اسے جنت کا لگا۔مگر اس نے در گزر سے کام لیا۔لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چار پانچ قدم کے بعد دوبارہ میرا پاؤں اس پر جا پڑا تو اسے یہ خیال گزرا کہ شاید کوئی شرارت کر رہا ہے۔چنانچہ اس نے پیچھے مڑکر تاڑ سے میرے منہ پر چیڑ لگا دی۔مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس کے سامنے ہو گیا تو اس کو ہر حال شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ہمیں کیوں اسے شرمندگی کا دکھ دوں۔یہ سوچ کر میں ایک طرف