قندیلیں — Page 72
موزا اور مَوْعِظَ مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ملک سیف الرد صاحب ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ حضرت مصلح موعود ایک دفعہ دادی سون جا یہ گاؤں کے قریب نخلہ میں قیام فرماتھے حضور سے ملاقات کی غرض سے مکرم ملک صاحب مرحوم ریوہ سے نخلہ کے لئے روانہ ہوئے۔راستہ میں نماز کا وقت ہو گیا۔آپ خوشاب کی ایک بیت میں داخل ہوئے۔وضو کرتے ہوئے جرابوں پر مسح کیا۔ایک مولانا محراب میں بیٹھے دیکھ رہے تھے۔وہاں سے دوڑے آئے اور آتے ہی ملک صاحب مرحوم کے پاؤں پر چھڑیاں مارنے لگے۔یہ اتار و جرابوں کو ۱۰ تا رو جوابوں کو ملک صاحب نے کہا۔مولوی صاحب ! اللہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ادم إلى سَبيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ اس پر مولوی صاحب کہنے لگے کہ وہاں موزا آیا ہے نہ کہ جواب۔ملک صاحب یہ واقعہ شناکر فرمایا کرتے تھے کہ ایک عالم با عمل بنو اور جاہل مولویوں کا طریق اختیار نہ کرو جن کو موڑا اور موعظہ کے فرق کا ہی علم نہ ہو۔(ماہنامہ خالد ستمبر اکتوبر ۲۱۶ ۱۹۹۵) وسعت حوصلہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد فرماتے ہیں :- میرے بچپن کا واقعہ ہے۔بعض واقعات ایسے گزر جاتے ہیں کہ انسان اپنی