قندیلیں

by Other Authors

Page 67 of 194

قندیلیں — Page 67

تقوی کی باریک راہیں حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی ایک مرتبہ کشمیر تشریف لے گئے۔ریچھ مارنے کا لائسنس لیا ہوا تھا۔دوران سفر ایک جگہ فروکش ہوئے جہاں احمدیوں کی آبادی تھی۔وہاں آپ شکار کے لئے ایک پہاڑی جنگل میں داخل ہوئے لوگوں نے ہانکنا شروع کیا۔ایک مشک والا ہرن ہانکنے سے نکلا اور بالکل سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔رائفل آپ کے کندھے کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور نالی شکار کی طرف ہمرا ہی تیراہ تھے کہ ایسا عجیب نایاب شکار سامنے کھڑا ہے کیوں فائر نہیں کیا جاتا۔آپ نے راکفل ایک دم نیچے کر لی۔وہ ہرن بھاگ گیا۔فرمایا۔اس کا خاص لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے میرے لئے فائر کرنا جائز نہ تھا۔گھر واپس آنے پر بعض لوگ جو ساتھ گئے تھے کہنے لگے کیسا عمدہ شکار سامنے آیا تھا ہم تو کبھی ایسے شکار کو نہیں چھوڑا کرتے۔اگر ایسی احتیاطیں کرنے لگیں تو بس شکار ہو چکا مگر ان بے چاروں کو معلوم نہ تھا کہ ایسی احتیاطیں نے کی جائیں تو بس تقویٰ ہو چکا۔الفضل ۱۷ مئی ۹۹) تیموں سے حسن سلوک محترم صاحبزادہ مبارک احمد صاحب اپنی تربیت کا ایک واقعہ تحریر فرماتے ہیں کہ بچپن میں ایک دن میرے ساتھ دو تین لڑکیاں صحن میں گھر لو کھیل (آنکھ مچولی) کھیل رہی تھیں۔مجھے کسی بات پر غصہ آیا اور میں نے ان میں سے ایک کے منہ پر طمانچہ مارا عین اسی وقت اباجان خلیفہ المسیح الثانی مغرب کی نماز پڑھا کر سمن میں داخل ہو۔