قندیلیں

by Other Authors

Page 58 of 194

قندیلیں — Page 58

۵۸ چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ اقبل کے گھر سے رخصنا نہ ہوا۔چند دن پیشره مع خاوند حضرت امام اول کے ہاں مقیم رہیں۔اہلیہ بابو صاحب کا قیام دار المسیح میں اور بابو صاحب کا مہمان خانہ میں تھا۔دوبارہ رخصتی ( مکلاوہ) لینے کے لئے یہ صاب سکھر آئے۔اور بابو صاحب نے میاں بیوی کے لئے پار چات بنوائے لیکن ان صاحب نے بد دماغی دکھائی حتی کہ ایک روز بابو صاحب سے سخت کلامی کی۔اور آپ کی ہمشیرہ اس رویہ سے سخت مغموم ہوئیں۔بابو صاحب رات بھر ڈیوٹی دے کر صبح گھر آئے تو دیکھا ہمشیرہ کو رات کو ہیضہ ہو چکا ہے۔ڈاکٹر نے کہا حالت خطرناک ہے اور شراب کی ایک خوراک پلانی چاہی لیکن ہمشیرہ نے جو آپ کی اہلیہ صاحبہ اور دوسری بہن کی طرح بہت دعا گو اور نوافل پڑھنے والی تھیں شراب پینے سے از کار کر دیا اور جاں بحق ہو گئیں۔چونکہ سکھر میں اور کوئی احمدی نہ تھا۔اس لئے بابو صاحب اور مرحومہ کے خاوند دونوں نے ہی ان کا جنازہ پڑھا۔اور دفن کیا۔یا یو صاحب نے امام جماعت اول کی خدمت میں بذریعہ تار اطلاع دیکر دعا کی درخواست کی ماشکن نے بتایا گزشتہ رات مرحومہ کو سجدہ میں رو رو کر یہ دعا کرتے سنا کہ اسے خدا تعالیٰ تو اب بھی قادر ہے۔میرے خاوند کا رویہ میرے بھائی کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔اگر میرا بھیرہ جانا اچھا نہیں تو بہتری کردے۔ایک دن مرحومہ کو یہ خواب آیا تھا کہ فرشتہ اس کی ڈولی لئے جا رہا ہے۔اس طرح حضرت امام اول کی نکاح میں کر دہ بات پوری ہوئی۔اصحاب احمد جلد سوم صفحه ۱۷۳۰ ۳۲۷۳)