قندیلیں

by Other Authors

Page 54 of 194

قندیلیں — Page 54

۵۴ کردی۔" أقوضُ أَمْرِى إِلى اللهِ اِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَاد 66 جب اتنی دیر گزری کہ جتنی دیر میں کھانا پک سکتا تھا۔اور یہ برابر دعا میں مصروف رہے کہ ایک آدمی نے باہر سے آواز دی کہ حضرت میرا ہاتھ جلتا ہے۔جلدی آڈیہ اٹھے۔ایک شخص تانبے کی رکابی میں گرم گرم پلاؤ لئے ہوئے تھا۔انہوں نے لیا اور مہمان کو اٹھا کر کھلایا۔وہ تجرہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔اس رکابی کا کوئی مالک نہ نکلا ( مرقاۃ الیقین صفحه ۲۱۷ ) ہمارے خدا کو ہمارا کتنا خیال ہے حضرت امام اول فرماتے ہیں کہ یہ میں کشمیر میں تھا۔ایک روز دربار کو جا رہا تھا۔یار محمد خان میری اردل میں تھا۔اس نے راستہ میں مسجد سے کہا کہ آپ کے پاس جو یہ پشمینہ کی چادر ہے یہ ایسی ہے کہ میں اس کو اوڑھ کر آپ کی اردل میں بھی نہیں چل سکتا۔میں نے اس کو کہا کہ اگر یہ تجھ کو بری معلوم ہوتی ہے تو میرے خدا کو تجھ سے زیادہ میرا خیال ہے۔ہمیں جب دربار میں گیا تو وہاں مہاراجہ نے کہا کہ آپ نے مبینہ کی دیا میں بڑی کوشش کی ہے۔آپ کو تو خلعت ملنا چاہئیے۔چنانچہ ایک قیمتی خلعت دیا گیا۔اس میں جو چادر نفی نہایت ہی قیمتی تھی۔میں نے یار محمد خان سے کہا کہ دیکھو کہ تہمارے خدا کو ہمارا کیسا خیال ہے " ( مرقاۃ الیقین ۲۱۸ - ۲۱۹)