قندیلیں

by Other Authors

Page 50 of 194

قندیلیں — Page 50

۵۰ نے یہ کیا اور بٹالہ پہنچ گئے مگر ٹکٹ خرید نے کا کوئی سامان نہیں تھا چونکہ گاڑی میں کچھ وقت تھا۔آپ خدا پر توکل کر کے ٹہلنے لگے۔اتنے میں ایک ہندو رئیس آیا اور حضرت امام اقول کو دیکھ کر عرض کی کہ میری بیوی بہت بیمار ہے اور آپ تکلیف فرما کر میرے ساتھ تشریف لے چلیں اور میرے گھر پر دیکھ آئیں۔حضرت امام اول نے فرمایا کہ میں توامام کے حکم پر دتی جارہا ہوں اور گاڑی وقت ہونے والا ہے کہیں اس وقت نہیں جا سکتا۔اس نے بمبنت عرض کیا کہ میں اپنی بیوی کو یہیں اسٹیشن پر سہی لے آتا ہوں آپ اسے دیکھے لیں۔آپ نے فرمایا۔اگر یہاں لے آؤ اور گاڑی میں کچھ وقت ہوا تو میں دیکھ لوں گا چنانچہ وہ اپنی بیوی کو اسٹیشن پر لایا اور آپ نے اسے دیکھ کر نسخہ لکھ دیا۔یہ ہندو رئیں چیکے سے گیا اور دلی کا ٹکٹ لاکر حضرت امام اقل کے حوالہ کیا اور ساتھ ہی معقول نقدی بھی پیش کی۔۱۹۵۰ الفضل 14 دسمبر شاہ) ید نظر عورتوں کو گھروں میں نہ آنے دیا جائے حضرت امام اول فرماتے ہیں کہ میری نئی نئی شادی ہوئی تھی میری بیوی کی عمر چھوٹی تھی میرے ایک دوست تھے ، انہوں نے کہا کہ ہماری بیوی تمہاری ہوں سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔ہمیں نے کہا شوق سے وہ آئیں۔چنانچہ وہ آئی میری بیوی کو دیکھتے ہی ایک بڑا ٹھنڈا سانس پھیرا اور کہا کہ ہائے تیری تو قسمت پھوٹ گئی۔تو تو ابھی بچی ہے۔اور تیر ہے ماں باپ اور بھائیوں نے تیری مولوی کے ساتھ شادی کر دی جو تیرے باپ کے ہم عمر ہیں۔میں نے اپنی بیٹی کی شادی نہایت خوبصورت اور جوان شخص سے کی ہے میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ یہ کون عورت