قندیلیں

by Other Authors

Page 44 of 194

قندیلیں — Page 44

ام بم سات سو دھیلے اور مل سکتے ہیں۔اسی طرح و میلے کو پھیلاتے ہوئے ہزاروں روپیہ کی تعداد تک حساب کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ ایک دھیلہ کو بھی بہت بڑی برکت دے سکتا ہے۔(حیات قدسی جلد سوئم ص ۴۷) بدگمانی میں جلدی کا احساس حضرت خلیفہ اسیج اول فرماتے ہیں کہ دور میں نے ایک کتاب منگوائی۔وہ بہت بے نظیر تھی۔میں نے مجلس میں اس کی بہت تعریف کی کچھ دنوں کے بعد وہ کتاب گم ہو گئی۔مجھے کسی خاص پر تو خیال نہ آیا مگر خیال آیا کہ کسی نے چھڑا لی۔ایک دن جب میں نے اپنے مکان سے الماریاں اٹھوائیں تو کیا دیکھتا ہوں الماری کے پیچھے بیچوں بیچے کتاب پڑی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کتاب میں نے رکھتی ہے اور وہ پیچھے جاپڑی ہے۔اس وقت مجھے پر معرفت کے دو نقطے کھلے۔ایک تو مجھے ملامت ہوئی کہ دوسرے پر میں نے بدگمانی کیوں کی۔دوئم میں نے صدمہ کیوں اٹھایا خدا کی کتاب اس سے بھی زیادہ عمدہ اور عزیز موجود تھی۔اسی طرح میرا ایک بستر تھا جس کی کوئی آٹھ دس نہیں ہوں گی۔ایک نہایت عمدہ ٹوپی مجھے کسی نے بھیجی جس پر طلائی کام ہوا تھا۔ایک اجنبی عورت ہمارے گھر میں آئی۔اسے کام کا بہت شوق تھا۔اس نے اس کے دیکھتے ہیں بہت دلچسپی لی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹوپی گم ہو گئی۔مجھے اس کے گم ہونے کا صدمہ تو نہ ہوا کیونکہ نہ میرے سر پر پوری آتی تھی۔نہ ہی میرے بچوں کے سر پر مگر میرے نفس نے اس طرف توجہ کی کہ اس عورت کو پسند آئی ہوگی۔مدت ہوگئی ہاں