قندیلیں — Page 40
اقتداء کا اعلیٰ نمونہ حضرت مولانا محمد ابراہیم بقا پوری فرماتے ہیں کہ " ایک دفعہ نماز عصر میں حضرت خلیفہ اول ایام تھے۔حضرت بانی سلسلہ نے امام کی اقتداء کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا جو قریباً ہم سب مقتدی ادا نہ کر سکے۔یعنی حضرت خلیفہ اول نے دوسری رکعت کے لئے اٹھنے میں ذرا دیر لگائی۔ہم سب مقتدی کھڑے ہو گئے لیکن مسیح موعود اسی طرح بیٹھے رہے جس طرح مولوی صاحب کھڑے ہوئے اسی طرح بعد میں حضرت بانی سلسلہ کھڑے ہوئے " بادشاہ تیرے کپڑوں برکت ڈھونڈ ینگے حضرت مولانا بقا پوری فرماتے ہیں کہ حافظ نبی بخش صاحب فیض اللہ چک کی آنکھیں اُٹھ آئی تھیں۔ڈاکٹروں اور حکیموں کا علاج کرتے رہے۔کچھ فائدہ نہ ہوا کافی عرصہ آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ر ہے۔فرماتے تھے کہ ایک دن مجھے خیال آیا کہ حضور کا الہام ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے میں کیوں نہ برکت حاصل کروں چنانچہ مسجد مبارک میں بعد نماز حضور تشریف فرما تھے۔حافظ صاحب کہا کرتے تھے کہ حضور کے پیچھے بیٹھ جایا کرتے اور شملہ اپنی آنکھوں پر لگا یا کرتے۔دو دن برابر لگاتے رہے۔تیسرے دن بغیر دوا کے آنکھیں کشور اسی ہو گئیں۔نہ لالی رہی نہ سُرخی وغیرہ حضور کی دستار