قندیلیں — Page 31
۳۱ آپ تو ہمارے ساتھ ہیں منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ بارش ہو کو تھمی تھی حضور باہر سیر کو جارہے تھے۔میاں چراغ دین جو اس وقت لڑکا تھا اور بہت شوخ تھا۔چلتے چلتے گر پڑا۔میں نے کہا اچھا ہوا یہ بڑا شریر ہے۔حضرت صاحب نے چپکے سے فرمایا کہ بڑے بھی گھر جاتے ہیں۔یہ سُن کر میرے تو ہوش گم ہو گئے اور بمشکل وہ سیر طے کر کے واپسی پر اسی وقت اندر گیا جبکہ حضور واپس آکر بیٹھے ہی تھے۔حضور میرا قصور معاف فرمائیں میرے آنسو جاری تھے بحضور فرمانے لگے آپ کو ہم نے نہیں کہا۔آپ تو ہمارے ساتھ ہیں۔اصحاب احمد - جلد چهارم صفحه ۱۵۶) پس خورده تبرک حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور نفلوی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رمضان شریف میں قادیان سے گھر آنے کا ارادہ کیا حضور نے فرمایا نہیں۔سارا رمضات نہیں رہیں۔میں نے عرض کیا۔حضور ایک شرط ہے حضور کے سامنے کا جو کھانا ہو وہ میرے لئے آجایا کرے۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا۔چنانچہ دونوں وقت حضور برابر اپنے سامنے کا کھانا مجھے بھجواتے رہے۔لوگوں کو بھی خبر ہو گئی۔وہ مجھ سے چھین لیتے۔وہ کھانا بہت سا ہوتا تھا۔کیونکہ حضور بہت کم کھاتے تھے۔د اصحاب احمد جلد چهارم صفحه (۱۵۵)