قندیلیں

by Other Authors

Page 25 of 194

قندیلیں — Page 25

۲۵ بیٹھے تھے۔میں نے کہا حضور زمین پر بیٹھے ہیں۔حضور نے سمجھا کہ غالباً میں کرنل صابا بورئیے پر بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔اس لئے حضور نے اپنا صافہ بورئیے پر سمجھا دیا اور فرمایا آپ یہاں بیٹھیں۔میرے آنسو نکل پڑے اور میں نے عرض کی کہ اگر چہ میں ولایت میں بپتسمہ (Baptize) لے چکا ہوں مگر اتنا ہے ایمان نہیں ہوں کہ حضور کے صافے پر بیٹھ جاؤں حضور فرمانے لگے کہ کچھ مضائقہ نہیں آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔میں صافحے کو ہٹا کر بورئیے پر بیٹھ گیا اور میں نے اپنا حال سنانا شروع کیا۔میں شراب بہت پیتا ہوں اور دیگر گناہ بھی کرتا ہوں۔خدا اور رسول کا نام نہیں جانتا لیکن میں آپ کے سامنے تو بہ کر کے عیسائیت سے مسلمان ہوتا ہوں مگر جو عیوب مجھے لگ گئے ان کو چھوڑنا مشکل ہے۔حضور نے فرمایا۔استغفار پڑھا کرو اور پنجگانہ نماز پڑھنے کی عادت ڈالو۔جب تک میں حضور کے پاس بیٹھا رہا میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور میں روتا رہا۔ر اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۱۰ - ۱۱۱) علم کو قید نہ کریں حضرت مسیح موعود سنایا کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے زخموں کو اچھا کرنے کا ایک بہت ہی اعلیٰ درجہ کا نسخہ معلوم تھا۔دُور دُور سے لوگ اس کے پاس علاج کے لئے آتے اور فائدہ اٹھاتے مگر وہ اتنا نخیل تھا کہ اپنے بیٹے کو بھی مریم کا نسخہ نہیں بتاتا تھا اور کہنا کہ یہ اتنا بڑا ہنر ہے کہ اس کے جاننے والے دو آدمی ایک وقت میں نہیں ہو سکتے۔بیٹے نے بہتری منتیں کیں اور کہا