قندیلیں — Page 26
مجھے یہ نسخہ آپ بتا دیں مگر وہ یہی جواب دیا کہ مرتے وقت تمہیں بتاؤں گا ہیں سے پہلے نہیں بتا سکتا۔بیٹا کہتا کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کہ کس وقت آجائے آپ مجھے یہ نسخہ بتا دیں مگر باپ آمادہ نہ ہوتا۔آخر ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور سخت حالت نازک ہوگئی۔بیٹا کہنے لگا۔باپ اب تو مجھے نسخہ بتادیں مگر وہ جواب دیا کہ میں مروں گا نہیں اچھا ہو جاؤں گا۔پھر حالت اور خراب ہو گئی تو بیٹے نے پھر منتیں کیں گر پھر بھی وہی جواب تھا کہ کیا تو سمجھتا ہے میں مرنے لگا ہوں نہیں تو ابھی نہیں مرتا۔غرض اسی طرح وہ جواب دیتا رہا اور یہاں تک کہ وہ مرگیا اور اس کا بیٹا جاہل کا جاہل ہی رہا۔یہ چیز ایسی ہے کہ جیسے اسلام جائز قرار نہیں دیتا۔( تفسير كبير۔سورة النور صفحه ۲۸۲ ہر بات میں اچھا پہلو میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل نے بیان کیا کہ ایک دن حضرت بانی سلسلہ احمدیہ بہت مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی موجود تھے۔حضرت صاحب نے مہمانوں کے لئے پرچ پیالیاں منگوائی ہوئی تھیں۔میر مہدی حسین صاحب سے پر میں گرگئیں اور چکنا چور ہو گئیں۔مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضرت صاحب آواز آئی ہے معلوم ہوتا ہے میر مہدی حسین صاحب سے پر میں ٹوٹ گئیں۔فرمایا میر صاحب کو بلاؤ۔میر مهدی حسین صاحب ڈر گئے اور ڈرتے ڈرتے سامنے آئے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔میر صاحب کیا ہوا ہے۔انہوں نے عرض کیا حضور ٹھوکر لگنے سے پر میں ٹوٹ گئیں۔اس پر فرمایا کہ دیکھو جب یہ گری تھیں تو ان کی آواز کیسی اچھی تھی۔