قندیلیں — Page 24
فرماتے ہیں۔یہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھے نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔" (تذکرة الشہادتین صفحه ۷۲ ۷۲۰) میں لگا تار روتا رہا حضرت مولانا ظفر احمد صاحب کپور تھلوی سے روایت ہے کہ آخری دن جب آتھم کو پیشگوئی سنائی گئی تو اس کا رنگ بالکل زرد ہو گیا اور دانتوں میں زبان دے کر گردن بلاکر کہنے لگا کہ میں نے حضرت محمد صاحب کو دقیال نہیں کہا۔حالانکہ اس نے اپنی کتاب اندر دنہ بائبل میں یہ لفظ لکھا تھا۔پھر آنتظم گر پڑا۔حالانکہ وہ بہت توی آدمی تھا۔پھر دو عیسائیوں نے اس کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے اٹھایا۔ایک شخص جگن ناتھ عیسائی تھا وہ مجھ سے اکثر باتیں کیا کرتا تھا۔نہیں نے اس سے کہا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا آتھم بے ایمان ہو گیا ہے اور ڈر گیا ہے پھر جب ہم واپس آئے تو کرنل الطاف علی خاں صاحب ہمارے ساتھ ہو گئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب سے تخلیہ میں ملنا چاہتا ہوں۔کرنل صاحب کوٹ پتلون پہنے داڑھی مونچھ منڈوائے ہوئے تھے۔میں نے کہا تم اندر چلے جاؤ۔باہر سے ہم کسی کو نہ آنے دیں گے۔پوچھنے کی کچھ ضرورت نہیں۔چنانچہ کرنل صاحب اندر چلے گئے اور آدھا گھنٹہ کے قریب حضرت صاحب کے پاس تخلیہ میں رہے۔کرنل صاحب جب یا ہر آئے تو چشم پر آب تھے۔میں نے کہا آپ نے کیا باتیں کیں جو ایسی حالت ہے۔وہ کہنے لگے کہ جب میں اندر گیا تو حضرت صاحب اپنے خیال میں بورئیے پر