قندیلیں — Page 169
144 پر بہت استغفار کیا۔اور سید نا حضرت مسیح موعود کے حضور بار بار دعا کیلئے عرض کیا۔اللہ تعالیٰ نے میری اس عاجزی کو قبول فرمایا اور آخری بچہ تندرست پیدا ہوا جس کی شادی اب ہو رہی ہے۔رحیات قدسی - حصہ چہارم ص ۳۷ - ۳۸ ) جس کو اللہ رکھے مکرم میاں سلطان احمد صاحب آن گھر گھیات رفیق بانی سلسلہ احمدیہ اندازاً شاہ میں پیدا ہوئے۔اس زمانے میں چھ جماعت پاس کرنے والے میاں سلطان محمد صاحب کا شمار تعلیم یافتہ لوگوں میں تھا۔اس لئے ان کو میونسپل بورڈ کی طرف سے محکم محصول چونگی میں محرہ مقرر کر دیا گیا۔شہرمیان جہاں اکثریت ہندوؤں کی تھی عورتیں مرد سب میاں صاحب کا بہت احترام کرتے تھے۔ہندو عورتیں اور مرد اپنے بچوں کے لئے دعا کے لئے ہاتھ جوڑ کر عرض کرتے تھے۔اور آپ کو رشی تصور کرتے تھے میاں صاحب کی بے نفسی، درویشی اور بزرگی کا چرچا خاص و عام کی زبان پر تھا محکمہ محصول کے افسران اور دیگر ملازمین سب لوگ میاں صاحب کی درویشی ، ان کے تو کل اور تقوی کے قائل تھے۔آپ کی بڑھتی ہوئی ہر دلعزیزی کو دیکھ کر آپ کے ہمعصر اور ہم پیشہ چونگی محرز کے دل میں بغض اور کینہ کے خیالات ابھرے اور وہ سوچنے لگا کہ کوئی صورت ایسی نکلے جس سے میاں صاحب کی شبکی ہو۔وہ ایسے کام میں لگ گیا کہ کوئی محکمانہ غلطی نکالے اور میاں صاحب کو مقدمہ میں پھنسائے۔کچھ اور لوگ بھی تعاون کے لئے تیار ہو گئے اور ایک جھوٹا من گھڑت محکمانہ مقدمہ میاں صاحب کے خلاف دائر کر دیا اور چونگی کے محکمہ کا