قندیلیں

by Other Authors

Page 151 of 194

قندیلیں — Page 151

۱۵۱ انہوں نے سنایا کہ ایک ہندو ساکن کوٹ قیصرانی ہماری بستی میں آیا اور مجھے کہا کہ میرے پاس دو سائیکلیں ہیں۔ایک سائیکل جو آپ کو پسند ہو گا آپ کے ہاں فروخت کر دوں گا۔سائیکل سواری کا شوق تھا۔میں نے کہا۔اچھا کل صبح ہمیں آپ کے پاس پہنچ جاؤں گا۔حسب وعدہ کوٹ قیصرانی چلا گیا۔راستہ میں جہاں صاف ستھرا ہموار میدان دیکھتا تو دل میں کہتا کہ یہاں سائیکل کو دوڑا ؤں گا ساتھ ہی دعا کرتا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ یہ سائیکل مجھے دلا دے۔جب میں ہندو کے پاس پہنچا تو اس نے کہا میرا بھائی سائیکل فروخت کرنے پر راضی نہیں ہے۔بڑے بھائی کی رائے کے خلاف میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔اس جواب سے مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔دلی تمناؤں اور خیالات پر پانی پھر گیا۔دو میل کا واپسی سفر میرے لئے بو جھل بن گیا۔گھر اگر مایوسی اور اداسی کی حالت میں چار پائی پر لیٹ گیا۔ظہر کے بعد سردار چیند خان کے ڈیرہ پر چلا گیا۔وہاں جا کر دیکھا کہ وہ ہندو جو سائیکل فروخت کرنا چاہتا تھا۔پولیس نے اسے مہتھکڑی لگا رکھی ہے۔پتہ چلا کہ سائیکل جو وہ مجھے فروخت کر رہا تھا چوری کا تھا۔اگر وہ سائیکل خرید لاتا تو وہ ہتھکڑی مجھے لگی ہوئی ہوتی۔والفضل ۱۲۳ ستمبر ۱۹۹۵ء صفحه (۵) بات ہے شفقت کی مکرم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب تحریر فرماتے ہیں :۔۱۹۴۶ء نہ میں موسم گرما میں خاکسار نے ڈلہوزی اپر بکر و نہ یہ شانتی کئی مکان کرایہ پر لیا تا کہ حضرت صاحب کے قریب گرمی کی تعطیلات گزارنے کی کاکی